سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 61 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 61

61 میں نے اپنی بیوی اور بچی سے کہا کہ اب تو یہ قلعہ فوج کے قبضہ میں ہے نہ معلوم یہاں خدا تعالیٰ کا ذکر کبھی کسی نے کیا ہے یا نہیں آؤ ہم یہاں نماز پڑھ لیں۔چنانچہ ہم نے وہاں پانی منگوایا وضو کیا اور نماز پڑھی۔میں بہت دیر تک نماز میں مشغول رہا اور دعائیں کرتا رہا۔“ (الفضل ۲۸۔فروی ۱۹۴۳ء) ایسی حالت کے متعلق ہی بزرگوں نے کہا ہے کہ جو دم غافل سو دم کا فر۔آپ ہر حال میں خدا کو یا در کھتے تھے۔ایک نماز کے رہ جانے کے خیال سے جو حالت ہوئی اس سے پتہ چلتا ہے کہ عبادت کی طرف آپ کے انہاک کا کیا عالم تھا۔فرماتے ہیں :- ” مجھے یاد ہے چند سال ہوئے میں ایک دفعہ دفتر سے اٹھا تو مغرب کے قریب جب کہ سورج زرد ہو چکا تھا مجھے یہ وہم ہو گیا کہ آج مجھے کام میں مصروف رہنے کی وجہ سے عصر کی نماز پڑھنی یاد نہیں رہی جب یہ خیال میرے دل میں آیا تو یکدم میرا سر چکرایا اور قریب تھا کہ اس شدت غم کی وجہ سے میں اس وقت گر کر مرجاتا کہ معا اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے یاد آ گیا کہ فلاں شخص نے مجھے نماز کے وقت آ کر آواز دی تھی اس وقت میں نماز پڑھ رہا تھا پس میں نماز پڑھ چکا ہوں لیکن اگر مجھے یہ بات یاد نہ آتی تو اس وقت مجھ پر اس غم کی وجہ سے جو کیفیت ایک سیکنڈ میں ہی طاری ہوگئی وہ ایسی تھی کہ میں سمجھتا تھا اب اس صدمہ کی وجہ سے میری جان نکل جائے گی۔میرا سر یکدم چکرا گیا اور قریب تھا کہ میں زمین پر گر کر ہلاک الفضل ۲۴۔جنوری ۱۹۴۵ء صفحه ۲ ) کم خورانی بھی صوفیاء کے نزدیک قرب الہی کے حصول کا ذریعہ ہے۔مندرجہ ذیل بیان سے عبادات میں شغف اور کم کھانے کے متعلق آپ کے معمولات کا پتہ چلتا ہے۔آ ہو جاتا۔فرماتے ہیں :- " آج کل رمضان ہے اور روزہ کی وجہ سے زیادہ تقریر نہیں کی جاسکتی۔دوسرے نیر صاحب نے رات کو میجک لینسٹرن کے ذریعہ سفر یورپ اور تبلیغ افریقہ کے حالات دکھائے ہیں گو اس سے بہت فائدہ ہوا ہے مگر سحری کو اس وقت آنکھ نہ گھلی جس وقت کھلنی چاہئے تھی اور میں دعا ہی کر رہا تھا کہ اذان ہوگئی اس لئے