سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 60 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 60

60 دعائیں کرتے ہیں وہ کیا ہے؟ اور نیز عرض کیا کہ میں بھی اس غرض کے لئے دعا کرونگا تا کہ وہ غرض آپ کو حاصل ہو جائے۔اس کے جواب میں حضرت ممدوح نے مسکرا کر فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس بات کی دُعا کرتے ہیں کہ خدا کے راستے میں جو انہوں نے کام کرنا ہے اس کے لئے انہیں مخلص دوست اور مددگار میسر آجائیں۔“ ( غیر مطبوعہ ریکار ڈ فضل عمر فاؤنڈیشن ) حضورا اپنی نو جوانی کے ایام میں حج بیت اللہ کا فریضہ ادا کرنے کے لئے گئے خدا تعالیٰ کے گھر کو دیکھ کر جو محویت آپ پر طاری ہوئی اس کے متعلق حضور بیان فرماتے ہیں۔میں جب حج کے لئے گیا تو میں نے بھی یہی دعا مانگی تھی مگر یہ خیال حضرت خلیفہ اول ہی کی ایجاد سے تھا اور کہتے ہیں اَلْفَضْلُ لِلْمُتَقَدَّم۔بے شک جب میں نے یہ دعا کی تو یہ بھی نقل تھی مگر حقیقت یہ ہے کہ اس وقت مجھے یہ واقعہ یاد نہیں تھا بلکہ اتنا بھی خیال نہیں تھا کہ میں زندہ بھی ہوں۔میں تو سمجھتا تھا کہ میں مر چکا ہوں اور اسرافیل صور پھونک رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہے کہ میری طرف چلے آؤ۔(الفضل ۸۔نومبر ۱۹۳۹ء صفحه ۳ (۴) اس عظیم عبادت کے موقع پر آپ نے سات جانور قربان کئے۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں : - جب حج کے لئے گیا تو میں نے سات قربانیاں کی تھیں۔ایک رسول کریم صلی الا یہ اپیلی کی طرف سے، ایک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے، ایک والدہ صاحبہ کی طرف سے، ایک حضرت خلیفۃ المسیح اول کی طرف سے، ایک اپنی طرف سے ، ایک اپنی بیوی کی طرف سے اور ایک جماعت کے دوستوں کی طرف سے۔“ وو تقریر جلسہ سالانہ ۲۷۔دسمبر ۱۹۳۴ء بحواله الفضل ۲۰ جنوری ۱۹۳۵ء صفحه ۳) سیر و تفریح کے وقت بھی عبادت کی طرف دھیان رہا آپ فرماتے ہیں :- ایک دفعہ میں دہلی گیا ہوا تھا۔میری مرحومہ بیوی سارہ بیگم اور میری لڑکی عزیزہ ناصرہ بیگم نے امتحان پاس کیا تھا اور میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ امتحان پاس کرنے کے بعد میں تمہیں آگرہ اور دہلی وغیرہ کی سیر کراؤں گا میں انہیں دہلی کا قلعہ دکھانے لے گیا جب سیر کرتے کرتے ہم قلعہ کی مسجد کے پاس پہنچے تو