سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 629
566 فرماتے ہیں:۔وو خدا نے ایک ایک کر کے مجھے سچائیوں کے قائم کرنے کا موقع دیا ہے۔ایک منٹ کے لئے بھی میں شبہ نہیں کر سکتا کہ مجھ سے ان معاملات میں غلطیاں ہوئی ہیں، بلکہ خواہ مجھے ایک کروڑ زندگیاں دی جائیں اور ایک کروڑ دفعہ مرکز میں پھر اس دنیا میں واپس آؤں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ میں پھر بھی اسی طرح ان صداقتوں کی تائید کروں گا جس طرح گزشتہ زندگی میں کرتا رہا ہوں میرے لئے سب سے بڑا فخر یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ تعلیمیں جنہیں بعض لوگ مٹانے کی فکر میں تھے، جنہیں بعض لوگ دبانے کی فکر میں تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو میرے ذریعہ زندہ کیا۔اللہ تعالیٰ اپنے کام کے لئے آسمان سے نہیں اترتا وہ اپنے کسی بندے کے ہاتھ کو ہی اپنا ہاتھ قرار دیتا اور اپنے کسی بندے کی زبان کو ہی اپنی زبان قرار دے دیتا ہے۔تب اُس کا ہاتھ جو کچھ کرتا ہے وہ درحقیقت خدا ہی کرتا ہے اور اُس کی زبان جو کچھ کہتی ہے وہ در حقیقت خدا ہی کہہ رہا ہوتا ہے پس مجھے خوشی ہے کہ اس ہاتھ کے بلند کرنے کے لئے خدا نے اپنے فضل سے مجھے پچھن لیا اور جو کچھ وہ عرش سے کہہ رہا تھا اسے اس نے میرے ذریعہ سے دنیا میں پھیلایا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کو ایسے طور پر قائم کر دیا کہ ان مسائل کے متعلق دشمن اب کسی طرح حملہ الفضل ۲۱۔جون ۱۹۴۴ء صفحه ۳) نہیں کر سکتا۔6❝ ایک اور جگہ حضور فرماتے ہیں :- ” جب میں اس دنیا سے رُخصت ہو جاؤں گا ، جب لوگ میرے کاموں کی نسبت ٹھنڈے دل سے غور کر سکیں گے، جب سخت سے سخت دل انسان بھی جو اپنے دل میں شرافت کی گرمی محسوس کرتا ہو گا ماضی پر نگاہ ڈالے گا، جب وہ زندگی کی ناپائیداری کو دیکھے گا اور اس کا دل ایک نیک اور پاک افسردگی کی کیفیت سے لبریز ہو جائے گا اس وقت وہ یقیناً محسوس کرے گا کہ مجھ پر ظلم پر ظلم کیا گیا اور میں نے صبر سے کام لیا حملہ پر حملہ کیا گیا لیکن میں نے شرافت کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔یہ بہترین بدلہ ہو گا جو آنے والا زمانہ اور جو آنے والی نسلیں