سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 628 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 628

565 حرف آخر حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا یہ کتاب اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے مگر ے حق تو ہے کہ حق ادا ہوا اس مضمون پر سالوں مطالعہ کیا اور غور کیا اور جتنا بھی آگے بڑھتا گیا یہ احساس قوی سے قوی تر ہوتا گیا کہ یہ موضوع اپنی وسعت ، اپنے تنوع ، اپنی عظمت ، اپنی گہرائی اور گیرائی کے لحاظ سے میرے جیسے بیچید ان * اور کوتاہ قلم کے بس کی بات نہیں ہے کہ اس کا احاطہ کر سکے اس عظیم شخصیت (جس کے سوانح و حالات، بھر پور زندگی کے پُر لطف واقعات ، بیان کرنے مقصود ہیں ) کے متعلق سوچ وفکر کا باب کھلتے ہی یوں لگتا ہے کہ ایک خوشنما، خوبصورت دلفریب خوشبو دار پھولوں کا باغ ہے جس میں ہر رنگ اور ہر قسم کے پھول کھلے ہوئے ہیں ان سب پھولوں میں سے کسی ایک پھول کو کیوں اور کیسے چن لوں اور اس کے ساتھ والا پھول کیوں نہ سمیٹ لوں !!! بس یہ سارا عرصہ اسی پر لطف کشمکش میں گزرا ہے۔اے کاش کوئی ایسا ذریعہ ہوتا کہ اپنے ممدوح حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے موعود بیٹے ، خدائی نشان، مصلح موعود کی ان ساری خوبیوں کو ان صفحات کی زینت بنا سکتا جن خوبیوں کے ساتھ وہ نصف صدی سے زیادہ دنیا میں ضو افشانی کرتا رہا کہ جماعت کے ہر فرد پر آپ کے احسانات کا حق ادا ہو سکتا اور قاری کو بھی اس کا پورا پورا حق ملتا۔خدا تعالیٰ نے آپ کو ایسی کامیاب زندگی سے نوازا جو دنیا میں بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔حضور اپنی زندگی کے گزرے ہوئے ایام کو ذہن میں لاتے ہوئے بطور تحدیث نعمت