سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 614 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 614

550 معلوم ہور ہا تھا کہ ایک بحر زظار میں سے موتی ابل ابل کر نکل رہے ہیں۔حضور کی تقریر اسقدر پر معارف اور روح پرور تھی کہ بڑے بڑے پر مغز لیکچراروں کو بھی سر جھکانا پڑتا تھا۔صاف اور سادی اتنی کہ ہر شخص اس سے مستفید ہورہا تھا۔سنا تھا کہ احمدی آنحضرت صلی للہا یہ آر مسلم کی کم عزت کرتے ہیں اور اپنی تقاریر میں ان کا کم نام لیتے ہیں اور مرزا صاحب کے نام کے نعرے لگاتے رہتے ہیں مگر میں نے یہ بات ہرگز نہ دیکھی۔حضرت خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی یہ حالت دیکھی کہ حضور کا نام آنے پر آپ مجسم رفت بن جاتے اور جہاں حضرت مسیح موعود کا نام لینا ہوتا وہاں حضور کے غلام سے موسوم فرماتے۔تقریر واقعی وہ تھی جس کی ضرورت تھی اور جس پر اسلام کی موجودہ حالت اور اس کی زندگی کا انحصار ہے۔آپ نے جو کچھ فرمایا قرآن وحدیث کی روشنی میں اور اس ڈھنگ سے کہ مردہ روحیں زندہ ہوتی جا رہی تھیں“ الفضل ۳۱ / جنوری ۱۹۴۶ ء صفحه ۸) لاہور کے شیخ غلام محمد صاحب کسی عارضہ کی وجہ سے بڑے بڑے دعوے کرنے لگ گئے تھے۔اس بیماری کی وجہ سے انہیں حضرت صاحب کی مخالفت کی دُھن سی لگ گئی تھی اور بعض مخالف جماعت کو نقصان پہنچانے یا تماشہ دیکھنے کے لئے ان کی مالی اعانت بھی کر رہے تھے جس کی وجہ سے وہ مختلف پمفلٹ وغیرہ شائع کر کے اپنے اختلاف کو نظریاتی رنگ میں پیش کرتے رہتے تھے۔جب ان کی یہ بیماری بڑھ گئی تو انہیں دماغی امراض کے سرکاری ہسپتال میں داخل کروادیا گیا۔ان حالات میں حضور کے علم میں یہ بات آئی کہ انہیں مالی مشکلات درپیش ہیں اور عام حالات میں ان کو آلہ کار بنانے والے اس مشکل وقت میں ان کی امداد سے دستکش ہو گئے ہیں تو مکرم مولوی عبد الرحمان صاحب انور پرائیویٹ سیکرٹری) کی روایت کے مطابق حضور نے متعدد مرتبہ ان کی مالی امداد فرمائی۔شیخ غلام محمد صاحب ایک لمبا عرصہ شدید مخالفت کرنے کے باوجود حضور کے احسانات اور بلند مقام کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے وہ لکھتے ہیں: میں نے سب سے بہادر جرنیل اور صاحب اخلاق و حلیم اگر کسی کو پایا تو وہ آپ موعود وجود ہے ( ہر طرح کی مخالفت کے باوجود ) آپ نہ خود مشتعل ہوئے اور نہ اپنی کثیر منظم جماعت کو میرے خلاف مشتعل ہونے دیا۔