سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 531
473 ۱۹۲۴ء میں جب ہم لندن گئے تھے تو حضور جہاز کے فرسٹ کلاس میں سفر کر رہے تھے۔اور بارہ ساتھیوں میں سے پانچ سیکنڈ کلاس میں اور بقیہ سات ڈیک پر تھے۔تو میں نے دیکھا کہ حضور بعض اصحاب کو اپنے کھانے سے حصہ بھیج دیتے۔اور مجھے بھی ایک ساتھ کھانا کھلاتے۔اس کیبن ( Cabin) کا خدمت گزار جس میں حضور قیام فرما تھے حضور کی خدمت میں بہت کم حاضر ہوتا۔حالانکہ دوسری کیبنوں کے مقیموں کے ہاں خوب حاضری دیتا۔حضور حُسنِ ظنی کرتے ہوئے یہی سمجھتے رہے کہ شاید بیمار ہوگا اس لئے ہمارے پاس نہیں آتا۔اس پر بس نہیں بلکہ حضور نے ان نامور آموں میں سے جو حضور کو مخلص اصحاب کی طرف سے تحفہ ملے تھے اس غیر حاضر ملا زم کو بھی دیئے۔(۲) جب ہم روم میں تین روز کے قیام کے لئے ٹھہرے تو حضور کی نقاہت کے پیش نظر عام کھانے کے ساتھ مرغی کا چوزہ بھی پکوا لیا گیا۔جب حضور دو پہر کے کھانے کے لئے میز پر بیٹھے تو حضور کے ساتھ خانصاحب ذوالفقار علی خانصاحب اور یہ عاجز بھی بیٹھے تھے کیونکہ حضور والے ہوٹل میں ہم دونوں بھی مقیم تھے۔حضور نے چوزہ کے سالن میں سے کچھ حصہ اپنی پلیٹ میں لے کر باقی ڈش ہماری طرف سر کا دی۔ہم دونوں نے خیال کیا کہ چوزہ تو حضور کے لئے تھا مگر حضور نے ہمیں بھی اس میں شریک فرما لیا ہے اور ہم نے فیصلہ کیا کہ بقیہ حضرت میاں شریف احمد صاحب کے لئے بھیج دیں گے۔چنانچہ ہم نے اپنی پلیٹ میں دوسرا سالن ڈالا جو سب کے لئے پکایا ہوا تھا۔اور چوزہ میں سے نہ لیا۔حضور نے ابھی چند لقمے ہی کھائے تھے کہ کھانا چھوڑ دیا اور ہم سے اظہار ناراضگی فرمایا کہ مجھے یہ ہرگز پسند نہیں کہ ساتھ بیٹھ کر کھانے والوں کے ساتھ امتیازی سلوک کروں کہ کوئی خاص کھانا صرف میں ہی کھاؤں۔دوسرا کوئی ساتھی نہ کھائے۔(۳) اس سفر کے دوران S۔S۔Africa کا واقعہ ہے کہ حضور کو معلوم ہوا کہ یورپین پلاؤ کو بہت پسند کرتے ہیں تو حضور نے ایک اچھی مقدار میں میاں رحم دین صاحب سے پلاؤ پکوایا اور جہاز کے چیدہ کارکنوں اور اپنے