سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 527
469 حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں میری ان سے واقفیت ہوئی اور میں جب حج کے لئے گیا تو میں نے ان کو بمبئی میں دیکھا اُس وقت انہوں نے ایسے اخلاص اور محبت کا ثبوت دیا کہ اس وقت سے ان کے تعلقات میرے ساتھ خانہ واحد کے تعلقات ہو گئے میں اپنے سامان کی تیاری کے لئے جہاں جاتا وہ سائے کی طرح میرے ساتھ لگے رہتے اور جہاز تک انہوں نے میرا ساتھ نہ چھوڑا۔ان کا اخلاص اتنا گہرا تھا کہ عبدالحی صاحب عرب نے ( جن کو میں اپنے ساتھ بطور ساتھی کے لے گیا تھا) ایک دفعہ پانی پینے کے لئے ایک خوبصورت گلاس نکالا۔میں نے ان سے پوچھا کہ یہ پہلے تو آپ کے پاس نہیں تھا اب آپ نے کہاں سے لیا ہے تو انہوں نے بتایا کہ مجھے سیٹھ صاحب نے لے کر دیا تھا کہ جب اس میں پانی پیو گے تو میں یاد آ جاؤں گا اس وقت ان کو میرے لئے دعا کے لئے یاد کرا دینا۔دوسری دفعہ جب میں بمبئی گیا تو سیٹھ صاحب پھر حیدر آباد سے بمبئی پہنچ گئے حالانکہ حیدر آباد سے بمبئی بارہ چودہ گھنٹے کا رستہ ہے لیکن پتہ چلتے ہی فوراً وہاں پہنچ گئے اور آخر دن تک ساتھ رہے بلکہ مجھے ان کا ایک لطیفہ اب تک یاد ہے۔وہ ایسے ساتھ ہو لئے کہ ان کا ساتھ رہنا میری طبیعت پر گراں گزرنے لگا اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم جہاں جاتے جب کھانے کا وقت آتا وہ اسی جگہ کسی اچھے سے ہوٹل میں تمام قافلہ کے لئے کھانے کا انتظام کر دیتے اور کھانا کھانے پر مجبور کرتے۔آخر میرے دل میں خیال آیا کہ اب تو حد سے زیادہ مہمان نوازی ہو گئی ہے ایک دن میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ آپ لوگ سیٹھ صاحب کو کیوں ساتھ لے لیتے ہیں وہ جہاں جاتے ہیں وہیں کھانے کا انتظام کر دیتے ہیں اور اب تو مہمان نوازی بہت لمبی ہو چکی ہے۔چنانچہ یہ طے ہوا کہ آج وقت سے دو گھنٹے پہلے ہی یہاں سے نکل جائیں تا کہ جب سیٹھ صاحب آئیں تو ان کو ہمارے متعلق علم نہ ہو سکے۔ہم لوگ موٹروں میں بیٹھ کر دو گھنٹے پہلے ہی گھر سے روانہ ہو گئے۔کچھ دور جا کر پھر ہم ریل میں سوار ہوئے۔جب ریل اس اسٹیشن پر جا کر کھڑی ہوئی جہاں ہم نے اترنا تھا تو ہم نے دیکھا کہ سیٹھ صاحب بھی وہاں کھڑے ہیں۔جب ہم اترے تو انہوں