سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 522 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 522

464 حضرت خلیفتہ المسیح الثالث بھی پر نسپل کے زمانہ میں پھگلہ گئے۔اور بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے افراد، اور برکت ہمیں لگا تار حاصل ہو رہی ہے۔میرے والد صاحب بزرگوار کی بڑی خواہش ۱۹۴۷ء سے بھی پہلے کی ہوا کرتی تھی کہ کشمیر جاتے حضور کبھی ہمارے ہاں ٹھہریں۔وہ خواہش ۱۹۵۶ء میں پوری ہوئی۔ہمارے گاؤں کے پاس سے بھی کشمیر روڈ گزرتی ہے۔یہ بات بھی ایمان افزا ہے۔حضور خلیفہ المسیح الثانی چلے گئے تو حضرت والد صاحب بہت پریشان رہے کہ حضور کی خدمت میں کوئی تحفہ نہ پیش کر سکے۔وہ کمی اللہ پاک نے اس طرح پوری کی کہ موجودہ خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ پرنسپل کے زمانہ میں پھگلہ گئے تو واپسی پر حضور الوداع کے وقت پکی سڑک کشمیر روڈ پر ٹھہرے اور فرمایا کہ سڑک کے کنارے کالج کے لڑکوں کے گرمیوں میں ٹھہرنے کے لئے دو کنال زمین دو ہم نے وعدہ کیا اور جس جگہ حضور کی موٹر کھڑی تھی سامنے ہی ہمارا ایک زمین کا ٹکڑا تھا وہ حضور کو دکھایا حضور نے پسند فرمایا۔بعد میں وہ جگہ جماعت کے نام انتقال کر دی۔خلیفہ المسیح الثالث نے جو جگہ پسند فرمائی تھی اللہ تعالیٰ کا ایسا تصرف ہوا کہ دو سال بعد ہی اس کے ساتھ ہی انٹر نیشنل سکاؤٹ سکول جنگل منگل گورنمنٹ نے ۳۰/۲۰ لاکھ کا بنوا لیا۔یہ حضور کی توجہ کا نتیجہ تھا کہ سب گاؤں کو فائدہ ہو گیا۔حضور کے ہمارے گاؤں میں آنے کی برکت سے یہ ایک تاریخی گاؤں بن گیا ہے۔مکرم محمد نصیب عارف حویلیاں ضلع ہزارہ لکھتے ہیں : گذشتہ جنگ عظیم میں جاپان کی لڑائی میں جاپانیوں کی قید سے رہائی کے بعد جب خاکسار سنگا پور میں پونے پانچ سال رہنے کے بعد ہندوستان ۱۹۴۵ء کے آخر میں پہنچا تو حضور کی ملاقات سے مشرف ہونے کا موقع ملا ملاقات کے لئے دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کی طرف سے صرف پانچ منٹ ملے تھے اور یہ بھی بہت زیادہ سمجھ کے دیئے گئے تھے۔کہ زندگی اور موت کی کشمکش کے بعد وطن کو واپسی کے بعد موقع ملا تھا۔غرض حضور کی خدمت میں حاضر ہوا قید کا عرصہ کچھ اس رنگ میں گزارا تھا کہ گویا یہ عاجز سنگا پور میں ایک مربی یا مبلغ کی