سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 511 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 511

453 آپ نے ایک موقع پر مکرم شیخ صاحب کو فہمائش فرمائی جس کے متعلق محترم شیخ صاحب لکھتے ہیں: میرے ایک داماد کے متعلق حضور نے ناراضگی کا اظہار فرمایا اور پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کو ہدایت فرمائی کہ مجھے لکھدیا جائے کہ چونکہ تمہارے داماد نے یہ شوخی دکھلائی ہے اور تمہارا اس سے تعلق ہے کیوں نہ اس کے نتیجہ میں تمہارے سارے خاندان کو جماعت سے علیحدہ کر دیا جائے۔جب وہ ارشاد حضور کا پہنچا تو میں نے جواب لکھ دیا کہ :۔میرا حضور کے ساتھ تعلق ہے جس کا حضور کے ساتھ تعلق نہیں میرا اس کے ساتھ تعلق نہیں۔“ حضور کی خدمت میں جب میرا یہ عریضہ پیش ہوا تو حضور نے خوشنودی کا اظہار فرمایا اور میرا یہ نوٹ اخبار میں شائع فرما دیا۔اس وقت سے لے کر آج تک میں نے اس داماد سے کوئی تعلق نہیں رکھا۔حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کے مندرجہ ذیل بیان سے حضور کی جماعت کے ساتھ غیر معمولی محبت و پیار کا اظہار ہوتا ہے کہ حضور نے افراد جماعت کے جذبات و احساسات کے مد نظر اپنی صحت اور ڈاکٹری مشورہ کی پرواہ نہ کی یادر ہے کہ یہ ڈاکٹری مشورہ ۱۹۱۵ء میں حضور کو دیا گیا تھا گویا حضور کی خلافت کے بالکل ابتدائی ایام میں اور حضور نے اس کے بعد کم و بیش نصف صدی تک اپنی روح پرور جاندار تقریروں سے برابر جماعتی خدمت جاری رکھی۔این کار از تو آید مرداں چنیں کند ۱۳۔جون کو زیادہ سے زیادہ حرارت ۲، ۹۹ ہوئی۔اور جلد ہی درجہ صحت تک آگئی مگر کمزوری بدستور رہی۔اسی روز اتفاق سے ہمارے مکرم دوست ڈاکٹر ملک عبدالرحمن صاحب ایم۔بی۔بی۔ایس جو حال ہی میں ولایت سے تشریف لائے ہیں۔حضور سے ملاقی ہوئے۔اور حضرت صاحب کا معائنہ کیا اور کہا کہ :- میری رائے میں آپ کو ایک سال کے لئے تقریر بند کر دینی چاہئے اور آج ہی پہاڑ پر چلے جانا چاہئے۔حضور نے فرمایا :- ”آپ نے جو کہا ہے کہ تقریر بند کر دوں آپ سے پہلے تمام کے تمام ڈاکٹروں نے یہی رائے دی ہے۔چنانچہ ۱۹۱۵ء میں ڈاکٹر انیسورتھ