سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 505 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 505

447 مجلس میں آتا تو وہ کھڑے ہو جاتے تھے اور پھر پوچھنے پر کہا کرتے تھے کہ کی کراں رہیا نئییں جاندا‘ کیا کروں رہا نہیں جاتا )۔حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب اپنی عالمانه شان اور سلسلہ کی گراں قدر خدمات کی وجہ سے جماعت میں کئی لحاظ سے منفرد مقام رکھتے تھے۔اس کے باوجود ان کی حضور سے عقیدت کا یہ عالم تھا کہ حضور جتنی دیر مجلس میں تشریف فرما رہتے حضرت مولوی صاحب بڑے ادب سے اپنا رومال ہلاتے رہتے تا کہ حضور کو مکھی یا مچھر کی وجہ سے کوئی تکلیف نہ ہو۔ان کی اس نمایاں خصوصیت کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :- میں مولوی صاحب کا شاگر درہا ہوں ، عمر کے لحاظ سے مولوی صاحب مجھ سے بہت بڑے تھے اور میں ان سے بہت چھوٹا تھا لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ وہ میرے استاد تھے ، با وجود اس کے کہ وہ عمر میں مجھ سے بڑے تھے۔باوجود اس کے کہ وہ مدرسی تعلیم میں بہت زیادہ دسترس رکھتے تھے، میں نے اکثر دیکھا کہ مولوی صاحب کا غذ پنسل لے کر بیٹھتے تھے اور باقاعدہ میرا لیکچر نوٹ کرتے رہتے تھے۔ان میں محنت کی عادت اتنی تھی کہ میں نے جماعت کے اور کسی شخص میں نہیں دیکھی۔( الفضل ۱۳ جون ۱۹۴۷ء صفحه ۴ ) 66 خلیفہ صلاح الدین صاحب حضور کی حرم محترمہ حضرت سیدہ ام ناصر کے بھائی تھے ان کے بیٹے خلیفہ صباح الدین صاحب اپنے والد صاحب کی حضور سے محبت و عقیدت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- ” ہمارے ابا مرحوم کو حضور سے گہرا تعلق تھا بلکہ یوں کہئے کہ عشق کی حد تک محبت تھی ، حضور بھی بہت تعلق رکھتے تھے، اکثر یاد فرمایا کرتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ حضور نے یاد فرمایا اور ابا کو تیز بخار تھا اور طبیعت خاصی کمزور تھی۔ہماری والدہ صاحبہ نے کہا کہ گاڑی کے ڈرائیور کو کہہ دیتے ہیں کہ طبیعت اچھی نہیں۔ابا نے کہا نہیں میں ضرور جاؤں گا نہ جانے کوئی اہم کام ہو۔جب حضور کی طرف سے کوئی ارشاد موصول ہوتا ابا اس لگن میں ہوتے کہ کسی طرح یہ