سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 491 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 491

433 عبدالمالک بعمر اڑھائی سال ربوہ میں آناً فاناً فوت ہو گیا میں اس وقت لاہور میں تھا۔حضرت صاحب کو پتہ لگا کہ عبدالمالک فوت ہو گیا ہے اور عبدالباری چاہتا ہے کہ اس کے والدین لاہور سے جلد آ جائیں اس پر حضرت صاحب نے اپنی موٹر دی اور فرمایا کہ ریل کا وقت تو نہیں رہا میری موٹر لے کر اپنے والدین کو بلا لیں۔حضور نے اپنا ڈرائیور بھی دیا جو رات کے گیارہ بجے میرے مکان پر لاہور پہنچا اور ہم سب مع اہل وعیال صبح ہی ربوہ پہنچ گئے۔میرے پہنچنے پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے نمازہ جنازہ پڑھائی اپنے خدام کے ذاتی معاملات میں دلچسپی لے کر انہیں سلجھانا بھی آپ کے اخلاق عالیہ کا حصہ تھا مکرم با بوعبد الحمید صاحب آڈیٹر ریلوے لا ہو ر لکھتے ہیں :- ایسے واقعات تو بہت ہیں جن میں حضور نے میرے ذاتی معاملات میں بڑی دلچسپی لی مگر میں صرف ایک واقعہ عرض کرتا ہوں۔میری دولڑ کیوں کے رشتہ کا حضور نے انتظام فرمایا۔ایک خط میں حضور نے اپنی قلم سے تحریر فرمایا۔لڑکیوں کے متعلق آپ کا خط ملا۔میں نے آج ہی پروفیسر محمد صاحب کو مدراس خط لکھا ہے ( آپ کو تو میں پہلے لکھ چکا ہوں اور جواب بھی آچکا ہے ) امید ہے ہفتہ کے اندر ان کا جواب آ جائے گا۔انشَاءَ اللهُ۔اللہ تعالیٰ وہ صورت پیدا کرے جو آپ کے لئے بہتر ہو“ وو چنانچہ میری بڑی لڑکی عزیزہ بلقیس بیگم کا نکاح جناب پروفیسر محمد صاحب ایم اے ایل ایل بی سے حضور نے پڑھایا اور بتقریب رخصتا نہ حضور نے حضرت اماں جان حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اور سیدہ صاحبزادی ناصرہ بیگم کو شرکت کے لئے لاہور بھجوایا۔حضور نے اس پیار و محبت کا مکرم بابو صاحب کے نام اپنے مندرجہ ذیل خط میں ذکر فرمایا : - مکرم با بوعبدالحمید صاحب۔السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ! عزیزی ناصرالدین کو بائیسکل کی ضرورت ہے آپ ستر پچھتر روپیہ تک ایک بائیسکل ان کو لے دیں اور میرے حساب میں رقم لکھدیں۔امید ہے خیریت سے رخصتانہ کی تقریب ہو چکی ہوگی۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس