سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 490 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 490

432 کے لئے ہماری دینی و دنیوی ترقیوں کے لئے اور ہماری مشکلات کے لئے بارگاہ ایزدی میں سجدہ ریز ہو کر دعاؤں میں مصروف ہوتے ہیں“ مضمون شیخ خورشید احمد صاحب الفضل ۱۰ اپریل ۱۹۵۵ء صفحه ۴) ایک ان پڑھ سپاہی نے نہایت سادگی سے حضور کی خدمت میں ڈیڑھ سطر کا خط لکھا حضور کی قدر دانی اور نکتہ رسی ملاحظہ فرمائیں :- میں نے دیکھا ہے۔پچھلے دنوں اُم طاہر کی وفات کے متعلق دوستوں کی طرف سے مجھے کئی خطوط ملے ہیں جو اچھے اچھے تعلیم یافتہ اور پڑھے لکھے لوگوں کی طرف سے آئے اور ایسے ایسے لوگوں کی طرف سے آئے جو سلسلہ سے گہرا اخلاص اور تعلق رکھتے ہیں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مختلف رنگوں میں ان سب نے اپنے اخلاص اور اپنی محبت کا اظہار کیا ہے اور وہ میرے اس غم میں سچے دل سے شریک ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزاء عطا فرمائے۔لیکن میری طبیعت پر سب سے زیادہ اثر کرنے والا خط ایک ان پڑھ سپاہی کا تھا جس میں صرف ایک فقرہ درج تھا اور سطر ڈیڑھ سطر سے زیادہ اس کا مضمون نہیں تھا۔مگر اس فقرہ میں ہی اس کی طرف سے اپنی محبت کا اظہار کچھ اس رنگ میں تھا کہ میں سمجھتا ہوں وہ بڑے بڑے لمبے خط جولوگوں نے لکھے اور وہ بڑے بڑے درد بھرے خطوط جو اس موقع پر آئے جہاں تک اس معاملہ کا سوال ہے اس ان پڑھ سپاہی کا ایک چھوٹا سا خط ان تمام خطوں سے بڑھ گیا ہے وہ فقرہ نہایت مختصر تھا الفاظ بہت تھوڑے تھے مگر ان چند الفاظ میں ہی اس کی جذباتی کیفیت اتنی نمایاں تھی کہ جس سے اس کی گہری محبت کا فوراً پتہ چل گیا۔اس خط کے الفاظ قریباً یہ تھے کہ حضور اطلاع ملی ہے کہ اُم طاہر فوت ہوگئی ہیں۔میرے دل کو اس سے بڑا صدمہ ہے اور آگے صرف اتنا فقرہ تھا کہ حضور اور میں کیا کروں۔۔الفضل ۲۶۔دسمبر ۱۹۴۱ء صفحه ۲-۳) مکرم با بو عبدالحمید صاحب آڈیٹر ریلوے لاہور۔حضور کی اپنے خدام سے شفقت و دلداری کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : - 66 عزیز عبد الباری جو اس وقت ناظر بیت المال تھا۔اس کا لڑکا ////////