سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 39 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 39

39 گندی کتاب ”رنگیلا رسول“ کے نام سے شائع ہوئی یہ ایسا واقعہ تھا جس نے عاشق رسول کو سراپا احتجاج بنا دیا آپ نے ایک مضمون بعنوان : - رسول کریم صلی الماری ترمیم کی محبت کا دعوی کرنے والے کیا اب بھی بیدار نہ ہونگے ؟“ فوری طور پر تحریر فرمایا جسے سارے ملک میں بصورت پمفلٹ اور پوسٹر شائع کیا گیا اس سلسلہ میں مصلحت وقت کے مطابق یہ بھی اہتمام کیا گیا کہ یہ پوسٹر ملک کے تمام بڑے بڑے شہروں میں نمایاں مقامات پر ایک ہی رات میں چسپاں کیا جاوے۔انگریز حکومت نے فوری طور پر اس مضمون کو ضبط کر لیا مگر اس مضمون سے جو فائدہ مدنظر تھا وہ حاصل ہو چکا تھا۔بات کو آگے بڑھانے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وہ مضمون جس میں حضور صلی اللہادی اورمسلم کی عزت و عظمت کی پاسداری اور آپ کی شانِ اقدس میں گستاخی کے نتیجہ میں پہنچنے والے درد اور تکلیف کا ایک ایک لفظ سے اظہار ہوتا ہے اس کا ایک حصہ بطور مثال یہاں پیش کر دیا جائے۔آپ نے تحریر فرمایا: - د " کیا اس سے زیادہ اسلام کے لئے کوئی اور مصیبت کا دن آ سکتا ہے؟ کیا اس سے زیادہ ہماری بے کسی کوئی اور صورت اختیار کر سکتی ہے؟ کیا ہمارے ہمسایوں کو یہ معلوم نہیں کہ ہم رسول کریم صلی السما و ال پیلم فدا نفسی واہلی کو اپنی ساری جان اور سارے دل سے پیار کرتے ہیں اور ہمارے جسم کا ذرہ ذرہ اس پاکبازوں کے سردار کی جوتیوں کی خاک پر بھی فدا ہے۔اگر وہ اس امر سے واقف ہیں تو پھر اس قسم کی تحریرات سے سوائے اس کے اور کیا غرض ہوسکتی ہے کہ ہمارے دلوں کو زخمی کیا جائے اور ہمارے سینوں کو چھیدا جائے اور ہماری ذلّت اور بے بسی کو نہایت بھیانک صورت میں ہماری آنکھوں کے سامنے لایا جائے اور ہم پر ظاہر کیا جائے کہ مسلمانوں کے احساسات کی ان لوگوں کو اس قدر بھی پرواہ نہیں جس قدر کہ ایک امیر کبیر کو ایک ٹوٹی ہوئی جوتی کی ہوتی ہے لیکن میں پوچھتا ہوں کہ کیا مسلمانوں کو ستانے کیلئے ان لوگوں کو کوئی اور راستہ نہیں ملتا۔ہماری جانیں حاضر ہیں، ہماری اولادوں کی جانیں حاضر ہیں ، جس قدر چاہیں ہمیں دکھ دے لیں لیکن خدا را نبیوں کے سردار محمد مصطفی صلی الشمای آل وسلم کو گالیاں دے کر، آپ کی ہتک کر کے اپنی دنیا اور آخرت کو تباہ نہ کریں کہ اس ذات بابرکات