سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 478 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 478

420 رائے اور خواہش نہیں ہے دوسری دفعہ پوچھا میں نے وہی جواب دیا تیسری دفعہ فرمانے لگے سنو ! جب میرا نکاح ہونا تھا مجھے حضرت صاحب نے بلایا اور فرمایا محمود تمہارا نکاح وہاں کر دیں میں نے شرم سے سر جھکا لیا اور خاموشی اختیار کی دوسری دفعہ پھر حضور نے فرمایا میں نے پھر بھی خاموشی اختیار کی تیسری دفعہ فرمایا بولو وہاں کر دیں تمہارا نکاح ہونا ہے اسی طرح مجھ سے بھی پوچھا میں نے عرض کیا اعتراض نہیں مگر خواہش اب بھی حضور ہی کی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس رشتہ کو اتنا با برکت کیا کہ پانچ لڑکے اور چارلڑکیاں عطا ہوئیں“ مکرم اللہ دتہ صاحب ( نوشہرہ ) حضور کی یتیم پروری کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- ۱۹۲۶ء کا واقعہ ہے کہ خاکسار مڈل کلاس میں لالہ موسیٰ میں زیر تعلیم تھا کہ اُس وقت والد صاحب کا انتقال ہو گیا اور ہماری مالی حالت کافی مخدوش تھی اور ہم تین بھائی اور دو ہمشیرگان تھے۔احباب کے مشورے سے خاکسار نے اپنے بھائی اور ہمشیرگان سید نا حضرت مصلح موعود کی خدمت میں پیش کئے اور ذاتی حالات گوش گزار کئے۔حضور نے از راہ شفقت بچوں کو قادیان بلا لیا اور ہماری ہمشیرہ اور ایک بھائی کو حضرت اُمّم طاہر صاحبہ کے سپرد کیا میرے دوسرے بھائی کو کوٹھی دارالحمد میں مالی کے کام پر لگا دیا۔حضور نے ہم سب پر اپنے دستِ شفقت کو ہمیشہ رکھا اور ہم سب بہن بھائیوں کو اس قابل بنایا کہ ہم زندگی میں سرخرو ہو سکیں۔چنانچہ یہ حضور کی ذرہ نوازی کہ ہم کو یتیمی کی حالت میں سنبھالا اور اب ہم سب بفضلہ تعالیٰ اپنی اپنی جگہ پر مطمئن زندگی بسر کر رہے ہیں ”ہماری ایک ہمشیرہ کلثوم بیگم کی شادی ڈاکٹر محمد احمد صاحب آف عدن کے ساتھ ہوئی تھی لیکن ایک وقت میں ان کی ازدواجی زندگی کافی تکلیف دہ ہوگئی اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ڈاکٹر صاحب نے ان کو طلاق دے دی۔جب حضور کو اس امر کا علم ہوا تو حضور نے مکرم ڈاکٹر صاحب مرحوم کو اس کے متعلق چھی تحریر فرمائی جس میں بلا وجہ طلاق دینے پر ناراضگی کا اظہار فرمایا اور ان کو ازدواجی زندگی کو بہتر بنانے کی تلقین فرمائی۔چنانچہ اس پر مکرم ڈاکٹر صاحب ////