سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 474 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 474

416 حضور از راه ذرہ نوازی ہسپتال میں تشریف فرما ر ہے اور حافظ صاحب کے حالات بغور سنتے رہے۔الفضل ۱۷۔جون ۱۹۳۷ء صفحہ ۲) حضرت حافظ روشن علی صاحب جو جماعت کے بہت ہی مخلص اور فدائی خادم او خلافت ثانیہ میں ابتدائی علماء و مبلغین کے استاد تھے ۲۳۔جون ۱۹۲۹ء کو وفات پا گئے۔حضور کو ان کی وفات کی اطلاع بذریعہ تار کشمیر میں ملی۔حضور نے جوابی تار میں فرمایا : مولوی شیر علی صاحب کا تار حافظ روشن علی صاحب کی وفات کے متعلق پہنچا۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔مجھے بہت ہی افسوس ہے کہ میں وہاں موجود نہیں ہوں تا کہ اس قابل قدر دوست اور زبر دست حامئی اسلام کی نماز جنازہ خود پڑھا سکوں۔حافظ صاحب مولوی عبدالکریم صاحب ثانی تھے اور اس بات کے مستحق تھے کہ ہر ایک احمدی انہیں نہایت ہی عزت وتوقیر کی نظر سے دیکھے انہوں نے اسلام کی بڑی بھاری خدمت سرانجام دی ہے اور جب تک یہ مقدس سلسلہ دنیا میں قائم ہے انشَاءَ اللہ ان کا کام کبھی نہ کھولے گا۔ان کی وفات ہمارے سلسلہ اور اسلام کے لئے ایک بڑا صدمہ ہے۔لیکن ہمیشہ ایسے ہی بڑے صدمے ہوتے ہیں جنہیں اگر صبر کے ساتھ برداشت کیا جائے تو وہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کے جاذب بن جاتے ہیں۔ہم سب فانی ہیں لیکن جس کام کے لئے ہم کھڑے کئے گئے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے جو موت وحیات کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ غیر معلوم اسباب کے ذریعہ اپنے کام کی تائید کرے گا۔میں احباب کے ساتھ سرینگر میں نماز جنازہ پڑھوں گا اگر لاش کے متغیر ہو جانے کا خوف نہ ہوتا تو التوائے تدفین کی ہدایت دے کر میں اس آخری فرض کو ادا کرنے کے لئے خود قادیان آتا۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر جو ہم سے رُخصت ہو گئے ہیں اور ان پر جو زندہ ہیں اپنی رحمتیں نازل فرمائے“ (الفضل ۲۸۔جون ۱۹۲۹ء صفحہ۱) مکرم ملک صلاح الدین صاحب ایم اے درویش قادیان جنہیں ایک لمبا عرصہ حضور کے پرائیویٹ سیکرٹری کی خدمات بجالانے کی سعادت حاصل ہوئی لکھتے ہیں :-