سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 427 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 427

384 لڑکیوں کو مارنا نہ باپ کے لئے نہ بھائیوں کے لئے اور نہ کسی اور کے لئے پسند فرماتے۔بلکہ جب کبھی کوئی ایسا واقعہ آپ کے سامنے آتا تو سخت کرب وغصہ کے آثار آپ کے چہرہ پر ظاہر ہوتے اور آپ فرماتے لڑکیوں پر ہاتھ نہیں اُٹھانا چاہئے ایسا کیوں ہوا؟ لڑکی ہو یا عورت ہو وہ تو محبت و پیار کی مستحق ہے حضور بہت کثیر المشاغل اور غیر معمولی مصروف انسان تھے تا ہم بچوں کی تربیت سے کبھی غافل نہ ہوتے تھے۔انداز تربیت بھی بہت ہی پیارا اور مؤثر تھا جیسا کہ محترمہ صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ کی اس تحریر سے ظاہر ہوتا ہے:- ہمیں مغرب کے بعد اور دوپہر کے وقت گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔مغرب کے بعد امی جان کو اطلاع کر کے حضرت اماں جان کے ہاں جانے کی اجازت تھی۔جب تک عمر پورے شعور پر نہیں پہنچی تھی دوسری والدہ کے گھر بھی ابا جان کی اجازت کے بغیر نہیں جا سکتے تھے۔باوجود یکہ حضرت عموں صاحب ( حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب) دار ا مسیح میں ہی رہتے تھے وہاں دن میں بھی پوچھ کر جانے کا حکم تھا۔لڑکوں کو بھی مغرب کے بعد گھر سے باہر ٹھہرنے کی اجازت نہ تھی اور نہ ہی سکول کے علاوہ دو پہر کو باہر رہنے کی۔ہم اگر کسی بڑے کو دیکھ کر کھڑے نہ ہوتے یا سر نگا ہوتا تو نظریں جو ہمیشہ نیچی ہی رہتیں ہماری طرف اٹھتیں ان نظروں کا مطلب سمجھتے ہوئے فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوتا۔اسی طرح گہنی سے اوپر آستین چڑھانے کی اجازت نہ تھی ہم علیحدگی میں یا کام کرتے ہوئے تو ایسا کر لیتے اگر بڑوں کے سامنے جانا ہوتا تو فوراً آستین واپس لے آتے۔اگر بڑوں کی مجلس میں بیٹھے ہوں یا اگر وہ کھڑے ہوں اور ہم بھی ان کی باتوں کو سن رہے ہوں تو جب تک بڑے خود نہ جائیں ہم وہاں سے جانہیں سکتے تھے۔یہ نہیں کہ ابا جان ہم کو ہر وقت ڈانٹتے یا کچھ کہتے رہتے تھے۔نہیں ! صرف ایک تربیتی نگاہ ہی کافی ہو جاتی ورنہ ہر وقت پیار ہی ملتا جو بہت ہی کم کسی کو ملا ہو“ اگر قناعت ایک دولت ہے اور یقیناً ایک بہت بڑی دولت ہے تو حضور اس دولت۔مالا مال تھے۔محترمہ صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ بتاتی ہیں کہ :-