سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 428 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 428

385 خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ کے پاس بہت کچھ آیا مگر کبھی اپنے بچوں اور بچیوں کو ضرورت سے زیادہ جس کی وجہ سے عیش وعشرت اور آرام طلبی کی عادت پڑے، خرچ نہیں دیا بس اتنا خرچ دیا جو ضرورتوں کو پورا کر سکے اسی طرح اپنے کسی بچے کی مالی کمزوری دیکھ کر یا اس کے پاس کسی چیز کی کمی دیکھ کر یہ خیال نہیں ہوا کہ دوسروں کے پاس ہے اور اس کے پاس نہیں ہاں اگر دوسروں کو مالی لحاظ سے اچھا دیکھا یا سنا تو خوش ہوئے بھی دوسرے بچوں سے اپنے بچوں کا مقابلہ نہیں کیا۔ایک مرتبہ میرے چھوٹے بھائیوں میں سے کسی نے آپ کو دعا کے لئے لکھا اور اس میں یہ لکھا کہ میری دنیاوی ترقی کے لئے دعا فرمائیں۔آپ نے فرمایا میں یہ دعا نہیں کرونگا یہ چیز تو ابوجہل نے بھی طلب کی تھی ہر عورت کی زندگی میں شادی کے بعد ایک نیا دور شروع ہوتا ہے۔وہ بچیاں جنہیں بہتر تربیت کے مواقع میسر آتے ہیں وہ شادی کے بعد اپنے خاوند کی زندگی میں سکھ بھرتے ہوئے اپنے گھر کو جنت کا نمونہ بنا لیتی ہیں۔حضور اپنی بچیوں کی تربیت کس طرح کرتے تھے۔آپ کی بیٹی صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ اس کے متعلق بیان کرتی ہیں :- ”میری شادی سے چند روز قبل کی بات ہے میں ایک کمرے کے دروازے میں کھڑی تھی حضرت ابا جان صحن میں ٹہل رہے تھے اور مجھے سمجھاتے جا رہے تھے۔دیکھو تمہاری عادت ہے تم کھانے پر بہت نخرے کرتی ہو اور اکثر چیز میں تم نہیں کھاتیں۔ماں باپ کے گھر میں تو ایسی باتوں کا گزارہ ہو جاتا ہے وہ اپنی اولاد کے ناز نخرے اُٹھا لیتے ہیں مگر سُسرال میں جا کر ایسا نہیں کرنا جو ملے خاموشی سے کھالینا وغیرہ۔اس کا یہ اثر ہوا کہ میں قریباً چھ سال چچا جان کے ساتھ رہی کبھی ایک لفظ کھانے کے متعلق منہ سے نہیں نکلا میری پسند نا پسند اس عرصے میں ختم رہی۔کبھی لڑکیوں سے سُسرال کے متعلق بات نہ پوچھی اگر کبھی کوئی بات دوسروں کے ذریعے سے پہنچی بھی تو سنی ان سنی کر گئے۔ہمیں اس لئے کبھی خیال نہیں آیا کہ میکے میں سُسرال کی بات بھی کرتے ہیں اولاد اور دوسرے رشتہ داروں کے حقوق کی باحسن ادا ئیگی کے متعلق محترمہ صاحبزادی