سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 426 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 426

383 دے کر گھر سے بلایا اور فرمایا تمہارا بھائی ڈرتا ہے میری بیٹی بہت بہادر ہے اپنے بھائی کو اپنے ساتھ لے جاؤ اور فلاں جگہ سے فلاں چیز اُٹھا لاؤ ہم دونوں وہ چیز لے کر واپس آئے تو حضور حضرت اماں جان سے مخاطب ہو کر فرمانے لگے بچوں کو بچپن سے ہی بہادر ہونا چاہئے اور کسی قسم کا بھی خوف یا ڈر ان کے دل میں پیدا نہیں ہونے دینا چاہئے“ بُزدلی سے حضور کو شدید نفرت تھی اور یہ کمزوری آپ بچوں میں بھی پسند نہ فرماتے تھے محترمہ صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ اس سلسلہ میں لکھتی ہیں :- ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم لوگ دارالحمد میں تھے۔حضرت ابا جان فرمانے لگے چلو گھوڑے کی سواری کرتے ہیں میں بُرقعہ پہن کر حضرت ابا جان کے ساتھ آئی دو بڑے گھوڑے تھے ایک جو تیز وشوخ گھوڑا تھا اُس پر حضرت ابا جان خود سوار ہوئے اور دوسرے پر مجھے سوار کروایا۔تھوڑی دیر میں آپ کے ساتھ گھوڑا دوڑاتی رہی پھر آپ کوئی بات کرنے کے لئے میرے قریب آئے گھوڑی نے گودنا شروع کیا اس کو دیکھ کر حضرت ابا جان کا گھوڑا بھی ٹانگیں کھڑی کرنے اور گود نے لگا میں نے گھبرا کر چیخ ماری کہ میں نے اُترنا ہے حضرت ابا جان نے سمجھایا مگر جب شدّتِ ڈر کی وجہ سے نہ مانی تو ابا جان کا چہرہ غصہ کی وجہ سے سُرخ ہو گیا اور فرمایا چلو واپس۔میرا مقصد لکھنے سے یہ ہے کہ آپ بُزدلی خوف و ڈر خواہ بچے کی طرف سے ہو یا عورت کی طرف سے برداشت نہیں کر سکتے تھے۔آپ سوچیں کہ اگر کوئی مرد بُزدلی دکھاتا تو آپ کو کتنی تکلیف ہوتی ہوگی لڑکوں اور لڑکیوں کے دائرہ عمل اور عملی ضروریات میں فرق کی وجہ سے حضور کے انداز تربیت میں بھی یہ فرق نظر آتا ہے کہ آپ بچیوں سے لڑکوں کی نسبت پیار کا زیادہ اظہار فرماتے :- بچوں سے آپ کو بہت محبت تھی لڑکیوں سے اس کا اظہار بہت ہوتا مگر لڑکوں سے ان کی تربیت کے پیش نظر محبت کا زیادہ اظہار نہیں فرماتے تھے لیکن لڑکیوں سے بڑا شفقت کا انداز تھا ہمیں چھوٹے بچوں کی طرح پیار کرتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ ابا جان کے سامنے ہمیں آخر تک اپنا آپ بچہ محسوس ہوتا رہا