سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 404 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 404

361 وَبَنِينَ وَ يَجْعَل لَّكُمْ جَنْتٍ وَيَجْعَلَ لَكُمْ أَنْهِراً مَالَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا۔(نوح : ۲ تا ۱۴) آپ کا پڑھنے کا انداز اور جس تڑپ سے آپ ان آیات کو بار بار پڑھ رہے تھے اتنا لمبا عرصہ گزر جانے پر بھی نہیں بھول سکتی۔یوں لگتا تھا کہ آپ کا دل پھٹ جائے گا آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور لگتا تھا کہ آپ کی فریاد عرشِ الہی کو ہلا دے گی۔پڑھتے پڑھتے آپ کی آواز اتنی اونچی ہو گئی کہ قریب کے گھروں کے لوگ جاگ اُٹھے۔اگلے دن صبح میری چچی جان مرحومہ بیگم حضرت میر محمد الحق صاحب ) جو ان دنوں مہمان خانہ کے کوارٹر میں مقیم تھیں آئیں اور کہنے لگیں کہ آج رات حضرت صاحب آدھی رات کو بڑی اونچی تلاوت کر رہے تھے ہمیں اپنے گھر میں آواز آ رہی تھی۔اس پر میں نے اُن کو سارا واقعہ بتایا۔آپ کی تمام کتب اور تقاریر پڑھ جائیں ان کا لب لباب یہی ہے کہ بندوں کا تعلق اللہ تعالیٰ سے مضبوط ہو۔شروع خلافت سے لے کر آخر تک آپ اسی کی تلقین کرتے رہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا تعلق پختہ کرو۔صرف ایک ہی حوالہ پر اکتفا کرتی ہوں آپ فرماتے ہیں:۔”اب میں بتا تا ہوں کہ وہ کیا شے ہے جس کی طرف میں آپ لوگوں کو بلا تا ہوں اور وہ کونسا نکتہ ہے جس کی طرف آپ کو متوجہ کرتا ہوں۔سنو! وہ ایک لفظ ہے زیادہ نہیں صرف ایک ہی لفظ ہے اور وہ اللہ ہے اسی کی طرف میں تم سب کو بلاتا ہوں اور اپنے نفس کو بھی اسی کی طرف بلاتا ہوں اسی کے لئے میری پکار ہے اور اسی کی طرف جانے کے لئے میں بگل بجاتا ہوں پس جس کو خدا تعالیٰ توفیق دے آئے اور جس کو خدا تعالیٰ ہدایت دے وہ اسے قبول کرے“ ( برکات خلافت - انوار العلوم جلد ۲ صفحہ ۲۳۶) اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بے انتہاء عشق آنحضرت صل علی پیر کی رات سے بے انتہا عشق تھا مجھے کبھی نہیں یاد کہ آپ نے آنحضرت صلی للہ یہ آلہ سلم کا نام لیا اور آپ کی آواز میں لرزش اور آپ کی آنکھوں میں آنسو نہ آگئے ہوں آپ کے مندرجہ ذیل اشعار جو سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کہے گئے ہیں آپ کی محبت پر روشنی ڈالتے ہیں :- مجھے اس بات معشوق پر ہے محبوب خدا فخر محمود ہے