سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 390
347 سر دست تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیٹھ صاحب کے اخلاص کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے متواتر اور کئی آدمیوں کو رؤیا کے ذریعہ سے اس امر کے قضائے الہی ہونے کا علم دیا ہے۔سیٹھ صاحب کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ یکمشت جو بڑی سے بڑی رقم سلسلہ کو ملی ہے وہ انہی کی ہے۔انہوں نے سترہ ہزار روپیہ ۱۹۱۸ء میں سلسلہ کی مدد کے لئے دیا تھا۔۔۔۔غرض کہ میں سمجھتا ہوں کہ ان کے اخلاص کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے ان کی خواہش کو پورا کرانے کے لئے خوابوں کا ایسا سلسلہ شروع کر دیا کہ جس سے میری توجہ مجبوراً پھر اس امر کی طرف پھر گئی۔“ الفضل ۲۹ جنوری ۱۹۲۶ ء صفحہ ۲۱) حضور کے نزدیک تو اسلامی تمدن کے قیام اور قرآنی احکام کی تعمیل میں کسی انقباض یا اعتراض کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا تاہم حضور نے اس رشتہ کے سلسلہ میں جن احباب سے مشورہ لیا ان میں سے بعض نے لوگوں کے معترض ہونے کے اندیشہ کا ذکر کیا۔اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :- جن دوستوں سے میں نے مشورہ کیا ہے ان میں سے بعض نے کہا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ لوگ اعتراض کریں کہ اس رشتہ کی کیا ضرورت تھی ؟ میں سمجھتا ہوں اعتراض یا دشمن کر سکتا ہے یا دوست دشمن کے اعتراض کی تو کچھ پرواہ ہی نہیں، وہ کیا رسول کریم صلی اللہ و آلہ وسلم پر اعتراض نہیں کرتا ؟ باقی رہے دوست سو دوستوں کو میں ایسا نہیں سمجھتا کہ وہ اس کام پر جو رؤیا کی بناء پر کیا جاتا ہے اعتراض کریں۔چار شادیوں تک تو شریعت نے خود اجازت دی ہے۔۔۔۔اور مجھے خدا تعالیٰ نے بچپن سے ہی ایسی زندگی میں سے گزارا ہے کہ اعتراضوں کی جب وہ بے ہودہ ہوں پر واہ ہی نہیں۔میرا جسم اعتراضوں کی کثرت سے اعتراضوں کی برداشت کے لئے اس قدر مضبوط ہو چکا ہے کہ اب اس پر کوئی اعتراض اثر نہیں کرتا نہ لوگوں کی رضا سے میں خوش ہوتا ہوں نہ انکی ناراضگی سے ناراض۔مجھے تو صرف خدا تعالیٰ کی رضا بس ہے اور اس کی رضا کو پورا کرنے کے لئے دشمن تو الگ رہے اگر اپنے دوستوں سے بھی مجھے الگ ہونا پڑے تو مجھے ایک ذرہ بھر بھی ملال نہ ہو۔“ الفضل ۲۹ جنوری ۱۹۲۶ء صفحه ۲)