سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 387
344 تک دوسروں سے کہتا رہا کہ ان باتوں کو سوچ لے مگر پھر بھی دعا کرتا ہوں کہ وہ اغراض جو خدا تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شادی کی بتائی ہیں ان کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔میرا دل بہت سے اسباب کی وجہ سے حقیقی دنیوی خوشی سے نا آشنا ہو گیا ہے۔اب مجھے دنیا میں کوئی خوشی نظر نہیں آتی لیکن یہ نہیں کہہ سکتا کہ خوش نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔اگر میرے دل میں یہ تڑپ نہ ہوتی کہ میں اسلام کی ترقی کو دیکھوں، اگر مجھے یہ امید نہ ہوتی کہ میں اپنی زندگی میں اپنے گناہوں کے معاف کرانے کے لئے سامان کرسکوں تو اس دنیا میں میرے لئے کوئی دلچسپی کا سامان نہیں مگر باوجود اس کے میں خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو رد نہیں کرتا بلکہ طلب کرتا ہوں، اگر میں دنیا میں رہ کر دین کی کچھ خدمت کر سکوں، ترقی اسلام میں ممد و معاون ہوسکوں، خدا تعالیٰ کی رضا میں کوئی گھڑی گزار سکوں تو میرے لئے کوئی دکھ دیکھ نہیں بلکہ یہ زندگی ہی جنت ہے اور اعلیٰ درجہ کی جنت ہے۔میں کبھی اپنی نادانی کی گھڑیوں میں کہا کرتا تھا میرے مولیٰ ! کس غرض کے لئے تو نے مجھے دنیا میں رکھا ہوا ہے مگر میں سمجھتا ہوں وہ نادانی کی گھڑیاں ہوتی ہیں دنیا دار العمل ہے۔۔۔۔۔اور خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کی بنیاد یہیں پڑتی ہے اس لئے میں خدا تعالیٰ کی دُنیوی نعمتوں کی بھی قدر کرتا ہوں اور اپنی کمزوریوں کا اقرار کرتے ہوئے اپنی کمزوریوں پر ندامت کا اظہار کرتا ہوں۔“ اس خطبہ کے آخر میں پھر اس کا مقصد بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔غرض اس نئے بوجھ کو جو میں اُٹھانے لگا ہوں تو محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اور میں سمجھتا ہوں دوسرے فریق کے لئے بھی یہ کوئی خوشی نہیں۔ایک ایسا مرد جو صحت کے لحاظ سے کمزور ہو جس کی مالی حالت کمزور ہو جس کا دل ڈ نیوی خوشی سے بے بہرہ ہو جس کی پہلے دو بیویاں موجود ہوں اُسے لڑکی دے کر کوئی بڑی امید نہیں کر سکتا اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ان کی بھی قربانی ہے اور میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ انہیں اس کے نیک نتائج دے۔۔۔۔اور جب یہ شادی محض جماعت کے بعض کاموں کو ترقی دینے کے