سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 362
318 اپنے اور بچوں کے لئے نشانی رکھنی ہے۔کیا کریں۔فرمایا حضرت اماں جان کے وجود میں بھی خدا تعالیٰ نے خاص برکت رکھی تھی اور بہت بابرکت بنایا تھا ان کو تبرک دینا ہے تو یہ مراد نہیں کہ سارا کپڑا ہی دیا جائے اماں جان کے قمیص کی ایک آستین، پاجامہ کا ایک پائنچا یا اس کے چھوٹے ٹکڑے بھی تبرک میں جو مانگیں اُن کو اس طرح تقسیم کر دو۔اور اماں جان کا گل سامان میں نے تمہارے سپرد کیا ہے بلکہ تم کو میں نے دے دیا ہے تم سنبھالو اور جو چاہو کر و۔حضرت اماں جان کے دو چار زیور طلائی تھے میں نے وہ جب تقسیم کر کے بتلایا تو فرمایا یہ تو میں تم کو دے چکا ہوں میں نے کہا میں خود دے رہی ہوں سب کے پاس ایک ایک چیز چاہئے۔غرض جس طرح میں نے چاہے کپڑے، زیور اور تبرکات حضرت مسیح موعود جو حضرت اماں جان کے پاس باقی تھے سب میں نے تقسیم کئے۔حضرت اماں جان کے دہلی والے عزیزوں کا بھی خاص خیال رکھتے اور بہت ان کی خاطر داری فرماتے جب دہلی جاتے بُلا بلا کر ملتے تھے۔حیدر آباد دکن میں حضرت اماں جان کے ننھیالی عزیز تھے احمدی بھائیوں کو سمجھا کر ان کی دعوتیں قبول کیں اور زیادہ وقت ان سب عزیزوں کی دعوتوں میں ہی صرف ہوا تھا۔فرمایا اماں جان کے عزیز ہیں ان کا حق ہے اُس وقت پھر پارٹیشن کے بعد جو عزیز آتے رہے سب کی ہر طرح امداد کرتے رہے۔ایک دفعہ حضرت سیٹھ عبد اللہ صاحب کی بیگم نے قادیان میں آپ سے ذکر کیا کہ ایک تقریب میں میں نے تبلیغ شروع کی ایک مُعمر بی بی سے کوئی بات کرنے لگی کہ ہمارے خلیفہ نے یہ فرمایا ہے آپ کا نام لیا تو وہ کہنے لگیں لو! مجھے بتاتی ہو وہ تو میرا بچہ ہے میرا محمود میں کیا جانتی نہیں ہوں۔آپ ہنسے اور فرمایا ہاں وہ تو میری نانی لگتی ہیں ہم ان کو گوری نانی کہا کرتے تھے۔رجمانِ طبع اصلی تو دین تھا جس کی دُھن تھی کہ احمدیت تمام عالم میں پھیلے اور اسلام کا غلبہ ہو۔ہر احمدی کی تکلیف کو اپنی تکلیف جانتے تھے۔اور یہ بھی تڑپ ان میں میں نے دیکھی کہ کسی طرح بچھڑے ہوئے بھائی جو خلافت