سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 353 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 353

309 کیونکہ بشیر اول کی وفات پر غالباً عصمت اُسکو یاد کرتی ہونگی۔اماں جان نے فرمایا کہ وہ اُٹھ کر بجائے میری طرف آنے کے ” میرا بشیر آ گیا کہتی ہوئی اپنی بڑی والدہ ( والدہ حضرت مرزا سلطان احمد کی طرف یعنی تائی صاحبہ کے گھر کو دوڑ گئی اسکو اپنی بڑی والدہ سے بہت تعلق تھا۔اور وہ بھی اس کو بہت پیار کرتی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام خوش کیوں نہ ہونگے۔وہ ہر پیدائش فرزند کو اللہ تعالیٰ کا نشان جانتے تھے۔آپ کی ہر خوشی کا اصل رجوع اسی محبوب حقیقی کی جانب ہوتا تھا ذاتی طور پر نہ آپ کی اپنے لئے کوئی خوشی تھی نہ غم۔سوال نمبر ۳: بسم اللہ وغیرہ کی کوئی تقریب میں نے نہیں سنی نہ دیکھی۔آمین بیشک ہم سب کی ہوئی اور بہت دھوم سے ہوئی۔آپ نے شروع میں جہاں تک مجھے یاد ہے اکثر سنا ہؤا ( نام یاد نہیں آرہا ) اس وقت بنگالی صاحب (ان کی اہلیہ صاحبہ کا دودھ میرے منجھلے بھائی صاحب نے پیا تھا) تھے۔زینب بیگم (مصری عبدالرحمن ) کے والد صاحب صحابی تھے مخلص تھے ایک خط ان کا میرے پاس رکھا ہے میرے میاں کو لکھا تھا ایک بہت مبشر خواب مگر نام ان کا بھول گئی اس وقت مگر اللہ کے ساتھ نام تھا۔یاد نہیں آ رہا * غالباً ان سے ہی ابتداء میں پڑھا پھر سکول میں بھی اور اصل شوق سے جو پڑھنا شروع کیا تو حضور خلیفہ اول سے جو قرآن شریف و حدیث پڑھنے لگے کیونکہ اس وقت سے مطالعہ پر زور تھا اور اکثر مسائل پر حدیث وغیرہ پر میرے چھوٹے ماموں جان سے گھر پر بھی باتیں ہوتی تھیں۔ان کی توجہ علم دین کی طرف ہی رہی مگر یہ نہیں کہ ہر وقت لگے ہی رہیں۔میز پر قرآن شریف، عربی کی کتابیں، لغت وغیرہ کتب حدیث اور ایک انجیل بھی ضرور رکھی رہتی تھیں۔اسی طرح شیعوں کے مراثی اور کتابیں مختلف مذاہب کی ہونگی۔مگر میں نے انجیل پڑھ کر دیکھی کچھ حصہ اور مرغیے پڑھے وہ یاد ہیں۔انیس اور دبیر بھی ان کے پاس تھے۔کوئی خاص وقت پڑھائی کا باہر صرف بھی نہیں کرتے تھے۔اور اندر بھی پڑھتے ضرور تھے مگر اتنا نہیں کہ دن رات جیسے لڑکے سر کھپاتے ہیں ان کو تو اللہ تعالیٰ نے خود ہی اپنے فضل وکرم سے پڑھا دیا۔اکثر آشوب چشم بھی ہو جاتا۔کمزوری سے حرارت بھی ہو جاتی تھی۔////////////// حافظ احمد اللہ صاحب مراد ہیں