سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 326
293 حضور کے بعض خطوط حضور کی ڈاک میں روزانہ سینکڑوں خطوط آتے تھے جو چھوٹی سے چھوٹی گھر یلو باتوں سے لے کر اہم ملکی اور قومی امور کے متعلق ہوتے تھے اسی طرح روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں جواب بھی جاتے تھے۔یہاں ان کو جمع کرنا تو مد نظر نہیں ہے البتہ خطوط چونکہ بے تکلفی اور سادگی کا انداز لئے ہوتے ہیں اس لئے یہ بھی سیرت پر روشنی ڈالتے ہیں اس غرض سے چند خطوط درج ذیل ہیں :- ایک مبلغ سلسلہ کے نام جنہوں نے اپنی بعض کمزوریوں کا ذکر کرتے ہوئے دعا کی درخواست کی تھی حضور نے ایک سطر کا جواب دیا مگر اس ایک سطر میں کمزوریوں پر غالب آنے ، مایوسی کو دور کرنے ، امید کی تروتازگی پیدا کرنے ، خدا تعالیٰ پر توکل اور یقین پیدا کرنے کا ایک وسیع مضمون بیان فرما دیا:- نیا درکھیں جو شخص اپنی کمزوریوں کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا سمجھتا ہے وہ خدا تعالیٰ کو نہیں پاسکتا“ (۲۔جولائی ۱۹۲۹ء) مکرم شیخ فضل احمد صاحب کے نام بے تکلفی کے انداز میں لکھا ہوا ایک خط : - مگر می شیخ صاحب! اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ - خیمہ پہنچ گئے۔جَزَاكُمُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ چونکہ فوجی خیموں کا مجھے علم نہ تھا مجھے ان کی گنجائش کے متعلق دھوکا لگا یہ تو بہت چھوٹے ہیں قریباً چھولداریوں کے برابر ہیں مگر نہ ہونے سے اچھے ہیں اور إِنْشَاءَ الله ان سے ہمیں بہت آرام مل جائے گا۔جَزَاكُمُ اللهُ اگر ان سے دُگنا خیمہ بنوایا جائے تو اس کی کیا لاگت ہوگی ؟ فوج میں تو شاید اپنے بنوائے جاتے ہیں اگر اس کا اندازہ آپ کو معلوم ہو تو اطلاع دیں