سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 323
289 کے علاوہ اپنی مرحومہ بیوی سے کئے ہوئے وعدہ کا ایفاء بھی پیش نظر تھا ) کو پورا کرنے کیلئے حضور ۲۶ نومبر ۱۹۵۰ء کو بذریعہ کا ر بھیرہ تشریف لے گئے۔راستہ میں حضور محترم مرزا عبد الحق صاحب سرگودہا کے مکان پر کچھ دیر کے۔محترم مرزا صاحب نے حضور اور قافلہ والوں کی خدمت میں چائے پیش کی۔اخبار الفضل اس سفر کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے :- ملک صاحب خان صاحب نون معہ رفقاء سڑک پر آڑے ترچھے کھڑے ہو کر راستہ روکے ہوئے نظر آئے اور حضور کی کار ٹھہرتے ہی اپنے گاؤں فتح آباد چلنے کے لئے کچھ اس اخلاص و لجاجت کے ساتھ التجاء کی کہ حضور اس تاریخی سفر کی مبارک ساعتوں میں سے چند لمحے فتح آباد کیلئے قربان کر دینے پر آمادہ ہو گئے۔۔۔۔۔۔وہاں حضور نے کوئی بیس منٹ کے قریب آرام فرمایا۔بھیرے والوں پر بھی اپنے وطن کی عظمت کا انکشاف شاید آج ہی ہوا تھا کہ انکے وطن کی زمین میں کیسا بے بہا نگینہ پیدا ہوا تھا جسکی آب و تاب دیکھنے کیلئے مصلح موعود ایدہ اللہ جیسا خلیفہ آرہا تھا لیکن یہ امر باعث مسرت ہے کہ اس احساس کو بھی (جو گودیر کے بعد پیدا ہوا) انہوں نے یونہی نہیں جانے دیا اور اس قیمتی ساعت کا خوب خوب ہی فائدہ اٹھا یا کیونکہ ہماری کاریں اور بسیں جو نہی شہر میں داخل ہوئیں یوں دکھائی دیتا تھا جیسے سارے کا سارا بھیرہ ہی خیر مقدم کیلئے لپک پڑا ہو۔ہم جدھر سے بھی گذرے سڑکوں ، گلیوں اور راستوں دونوں طرف لوگ پرے کے پرے جمائے کھڑے تھے اور محمود ایدہ اللہ کی زیارت کے شیدائی پروانہ وار گرتے پڑتے نظر آئے۔۔۔۔۔۔حضور کار سے اترتے ہی سب سے پہلے حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کے آبائی مکان میں تشریف لے گئے۔اس مکان کے ایک کونے میں احباب جماعت نے حضور کو کرم دین نامی تنور والے کی رہائش گاہ بھی دکھائی جس کو اللہ تعالیٰ نے غیر احمدی ہونے کے باوجود محض حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی محبت اور عظمت کی وجہ سے تعصب و تنظر کے اس مختند و تیز جھکڑوں میں ثابت قدم رہنے کی توفیق دی تھی جب احمدیت کی قبولیت کا سن کر سارے بھیرہ والوں نے حضور کا مجلسی اور تمدنی بائیکاٹ کر دیا تھا اور باقی تنوروں والوں نے روٹی پکانے سے انکار کر دیا تھا، کرم دین نے ہر قسم