سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 275
252 غرض اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں بہت سے لوگوں کے لئے جن کے دلوں میں یہ خواہش تھی کہ کاش وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھتے اور اس طرح صحابیت کا مقام حاصل کر سکتے۔یہ رستہ کھول دیا کہ اس نے میری زبان پر یہ الہام جاری فرما دیا کہ اَنَا الْمَسِيحُ الْمَوْعُودُ مَثِيْلُهُ وَخَلِيفَتُهُ۔میں ہی مسیح موعود ہوں اور مسیح موعود کا مثیل اور اس کا خلیفہ ہوں۔مثیلہ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے جہاں اس امر کا اظہار فرما دیا کہ مصلح موعود سے تعلق رکھنے والی پیشگوئیاں میری ہی ذات سے وابستہ ہیں۔وہاں تم میں سے ان لوگوں کیلئے جن کے دلوں میں صحابیت کا مقام حاصل کرنے کی تڑپ تھی اللہ تعالیٰ نے ایک اور دروازہ کھول دیا جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ : - مبارک وہ جو اب ایمان لایا صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا اسی طرح وہ لوگ جن کا میرے ساتھ محبت اور اخلاص کا تعلق ہے اور جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف خدمات میں میرا ہاتھ بٹانے کی توفیق عطا فرمائی ہے ان کے متعلق بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے جب مجھ کو پالیا تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ سے جاملے۔ہزاروں ہزار اور لاکھوں لاکھ افراد جو اس وسیع دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ان کے متعلق خدا نے یہ دیکھتے ہوئے کہ اس زمانہ میں تلوار سے اسلام نہیں پھیل رہا بلکہ دلائل اور براہین کے ذریعہ پھیل رہا ہے اور دلائل اور براہین کے ذریعہ ہمیشہ آہستہ آہستہ لوگ سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے صحابیت کے ظل اور اس کے سایہ کو لمبا کر دیا ہے۔تا کہ ایک عرصہ دراز تک دنیا اس نعمت سے مستفیض ہوتی رہے اور صحابیت کے فیض سے مستفیض ہونے والے لاکھوں افراد دنیا میں اسلام اور احمدیت کو پھیلاتے رہیں ( رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ صفحه ۵،۳ ) ۱۹۴۶ء کی مجلس مشاورت کے موقع پر فرمایا: - دوسری بات جس کی طرف میں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ اب دنیا کے لئے ایک خطرناک زمانہ آ رہا ہے ایک پیشگوئی کے بعد دوسری پیشگوئی پوری ہو رہی ہے اور آخری اور خطرناک صورتیں اب دنیا میں ظاہر ہونے