سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 268 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 268

245 کی اور میں نے انجمن والوں سے کہا کہ تم نے کسی سے نہیں کہنا کہ ہم لٹ گئے بلکہ جو شخص روپیہ لینے کے لئے آئے اسے فوراً روپیہ دے دو۔نتیجہ یہ ہوا کہ جب وہ دوبارہ امانت رکھتے تھے تو اس تسلی اور اطمینان کے ساتھ رکھتے تھے کہ ہمارا روپیہ محفوظ ہے۔ان دنوں چونکہ عام طور پر لوگوں کو شکوہ تھا کہ ہم نے فلاں کے پاس روپیہ رکھا اور وہ کھا گیا فلاں کے پاس امانت رکھی اور اس نے واپس نہ کی اس لئے ڈر کے مارے لوگ انجمن کے خزانہ سے بھی روپیہ نکلوانے لگ گئے۔اکیس لاکھ میں سے پہلے چند مہینوں میں سترہ لاکھ روپیہ نکل گیا مگر پھر بھی ہمارے پاس اڑھائی تین سال تک اکیس لاکھ ہی رہا اور اس کی وجہ یہی تھی کہ جن لوگوں میں یہ چرچا ہوا کہ ہم نے فلاں بنک میں روپیہ رکھا تھا وہ کھا گیا فلاں شخص کے پاس امانت رکھی تھی اس نے خیانت کی مگر جو انجمن میں روپیہ رکھا تھا وہ محفوظ رہا تو جو لوگ اپنا روپیہ نکلوا لیتے تھے وہ بھی کچھ رو پیدا اپنے پاس رکھ کر باقی روپیہ پھر ہمارے پاس جمع کرا دیتے تھے اور کچھ لوگ نئی امانتیں رکھوا دیتے تھے تو دیانتداری ایسی چیز ہے جو سب سے بڑا خزانہ ہے۔بڑا ہی بیوقوف وہ ہوتا ہے جس کے پاس دو سو روپیہ رکھا جائے اور وہ دو سو کھانے کی کوشش کرے اگر وہ دوسو کو حفاظت کے ساتھ رکھے تو کل لوگ اسے آٹھ سو دیں گے پرسوں پندرہ سو دیں گے اس امانت کے ذریعہ وہ اپنے بھی کئی کام چلا سکے گا۔“ الفضل ۱۸ / اگست ۱۹۵۴ء صفحه ۴ ) خدا تعالیٰ کے فضل سے امانت فنڈ جس طرح بحفاظت پاکستان پہنچا اس کا اوپر ذکر ہو چکا ہے جماعتی اموال کی حفاظت اور احتیاط کے متعلق مکرم عبد الرحمان صاحب انور اسٹمنٹ پرائیویٹ سیکرٹری کا بیان کردہ مندجہ ذیل واقعہ بھی اس سے ملتا جلتا ہے۔ایک دفعہ ۳۸ ۱۹۳۹ء کے قریب جبکہ حضور کراچی سے قادیان کے لئے ریل میں سوار ہو کر تشریف لا رہے تھے اور حضور کے ہمراہ ایک دوسرے ڈبے میں مکرم چوہدری یوسف خان صاحب ایجنٹ احمد یہ سنڈیکیٹ بھی سوار ہوئے جنہوں نے راستہ میں حیدر آبادسندھ کے سٹیشن پر اُتر جانا تھا۔چوہدری صاحب کو اس وقت شدید بخار تھا وہ بخار کی حالت میں ہی مغرب کے قریب حیدر آباد سے