سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 254 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 254

231 ایک عظیم منتظم ( نظام مال) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے يُحْيِ الدِّينَ وَيُقِيمُ الشَّرِيعَة کے کاروان کے آغاز سفر میں ہی براھین احمدیہ جیسی معرکۃ الآراء کتاب تصنیف فرمائی تو اس میں مخالف اسلام طاقتوں کو چیلنج کرتے ہوئے اپنی ساری جائیداد بطور انعام دینے کی پیشکش فرما دی اور اس طرح دنیائے مذہب میں ایک تہلکہ مچا دیا اور حجت تمام کر دی۔یہ سلسلہ آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا پیاسی دنیا کو سیرابی کے اس چشمہ کا پتہ چلا تو سعید روحیں کشاں کشاں چھوٹے سے گمنام گاؤں کی طرف رختِ سفر باندھنے لگیں۔یہ خوش قسمت لوگ جو محض اللہ سفر کی صعوبتیں اور مشکلات برداشت کرتے ہوئے قادیان پہنچتے وہ حضور کے مہمان ہوتے ، گھر میں کھانا تیار ہوتا، حضور مہمانوں کو کھانا پیش فرماتے۔ان میں سے خدا کے بعض بندوں نے وہیں ڈیرے ڈال لئے تو وہ مہمان کے ساتھ ساتھ میزبان بھی بن گئے اور روزمرہ آنے والوں کے لئے حضور کا ہاتھ بٹانے لگے۔جلسہ سالانہ کی داغ بیل ڈالی گئی تا مختلف علاقوں اور قوموں کے لوگ ایک جگہ جمع ہو کر باہم تعارف بھی حاصل کریں اور معارف و حقائق قرآنی سنکر اپنے ایمان مضبوط کریں اور تبلیغ واشاعت کی کوششوں میں شامل ہوں۔ایسے ایک موقع پر جب منتظم نے بتایا کہ اخراجات کے لئے رقم نہیں ہے تو حضرت اماں جان کا زیور کام آیا جسے بیچ کر مہمانوں کو کھانا کھلایا گیا۔جب یہ رقم بھی ناکافی ثابت ہوئی تو فرمایا کہ ہم نے ظاہری اسباب کے لحاظ سے کچھ سامان کر دیا تھا اب جس کے مہمان ہیں وہی انتظام فرمائے گا گویا الیس اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ کہنے والے کے سامنے اپنی حالت پیش کر دی اور کفالت کے غیبی سامان شروع ہو گئے حضور کا یہ مشہور قول کہ جس طرح ایک دنیا دار کو اپنے صندوق میں پڑی ہوئی رقم پر بھروسہ ہوتا ہے اس سے کہیں زیادہ مقبولانِ بارگاہِ الہی کو اس کی ذات پر ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب جیب خالی ہوتی ہے تو تو کل کا اور زیادہ مزہ آتا ہے۔ایسے ہی کسی موقع پر کہا گیا ہو گا۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب کی روایت کے مطابق مہمان زیادہ آگئے تو آپ نے اپنا بستر