سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 15
15 عاجزانہ اور حقیر کوششیں کامیابی و کامرانی سے سرفراز ہوئیں۔حضور کی دعا کی برکت اختلاف کے وقت جماعت کا ایک حصہ علیحدہ ہو گیا اور انہوں نے لاہور کو مرکز بنا کر ایک نیا فرقہ بنالیا۔ان میں سے ایک اچھے خاصے کاروباری صاحب تھے جو بتدریج اوسط طرز زندگی سے خوشحالی کی جانب جھک گئے اور بعض ایسی کارروائیوں کی لپیٹ میں آگئے جو قانونی لحاظ سے قابلِ اعتراض تھیں۔اس کے نتیجہ میں ان پر مقدمہ قائم ہوا اور ایک سنگین جرم ثابت ہوا اور انہیں ایک لمبے عرصہ کی قید کا حکم سنا دیا گیا۔فرد جرم اور فیصلہ کی بناء پر ہائی کورٹ میں ایک اپیل دائر کی گئی لیکن ضمانت کی اجازت نہ ملی اور اپیل دائر ہونے کے باوجود اپیل کنندہ بدستور جیل میں ہی رہے۔اس سے ان کی رہائی کی امید ختم ہو گئی۔ان کی جیل اور ماقبل کی زندگی کے موازنہ نے انہیں مجبور کر دیا کہ وہ اپنی قدروں کو جانچیں اور پرکھیں۔چنانچہ انہوں نے ایک دفعہ پھر حسب سابق نمازوں اور گذشتہ اعمال پر استغفار اور تاسف کے ذریعہ ہدایت و نصرت کی تلاش شروع کر دی۔اذیت وکرب کے اُس دور کے وسط میں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواب میں زیارت کی اور آپ سے معلوم کیا کہ : - یہ حضور علیہ السلام کا جواب تھا۔حضور! میں کب تک رہائی کی امید رکھوں ؟“ ” جب بھی تمہاری جلد تبدیل ہو جائے“ انہوں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ خدا تعالے ان کے طریق زندگی میں مکمل اخلاقی اور روحانی انقلاب چاہتا ہے۔چنانچہ انہوں نے اس عمل کو جاری رکھنے اور اپنے منتخب کردہ راستے پر مضبوطی سے گامزن رہنے کا پختہ فیصلہ کر لیا۔جب ان کے صاحبزادے اگلے دن ان سے ملاقات کی غرض سے آئے تو انہوں نے سارا ماجرا بیان کیا اور اسے تاکید کی کہ وہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی سے ملاقات کر کے ان کی خدمت میں والد کی بیعت پیش کرتے ہوئے رہائی کے لئے دعا کی استدعا کرے۔حُسن اتفاق سے انہیں دنوں حضرت صاحب لاہور تشریف لائے تو وہ