سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 232
219 ڈٹ کر کھڑا ہو گیا تو کیا دوسری اسلامی حکومتیں محمد رسول اللہ صل اللہ ایلم کے لئے اتنی غیرت بھی نہیں دکھا سکتیں۔انہیں عیسائی حکومتوں سے صاف صاف کہہ دینا چاہئے کہ یا تو تم اسلامی مبشرین کو اجازت دو کہ وہ تمہارے ملکوں میں اسلام کی اشاعت کریں ورنہ تمہارا بھی کوئی حق نہیں ہوگا کہ تم ہمارے ملکوں میں عیسائیت کی تبلیغ کرو۔اگر تم ہمارے ملک میں عیسائیت کی تبلیغ کر سکتے ہو تو تمہارا کیا حق ہے کہ تم کہو کہ ہم اسلام کی باتیں نہیں سن سکتے۔بیشک ہمارے مذہب میں رواداری کی تعلیم ہے مگر ہمارے مذہب کی ایک یہ بھی تعلیم ہے کہ اگر کوئی تمہارے ساتھ بے انصافی کرے تو تم بھی اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرو۔یہ ایک نہایت صاف اور سیدھی طرز ہے مگر افسوس ہے کہ مسلمان حکومتوں کا ذہن ادھر نہیں جاتا اور وہ اسلام کے لئے اتنی غیرت نہیں دکھاتیں جتنی کرنل ناصر نے سویز کے متعلق غیرت دکھائی۔اگر مسلمان حکومتیں محمد رسول صل اللد و الا علم کے لئے سویز جتنی غیرت بھی دکھا ئیں تو سارے جھگڑے ختم ہو جا ئیں اور اسلام کی تبلیغ کے راستے کھل جائیں اور جب اسلام کی تبلیغ کے راستے کھل گئے تو یقیناً سارا یورپ اور امریکہ ایک دن مسلمان ہو جائے گا الفضل ۱۵ مئی ۱۹۵۶ء صفحه ۳٬۲) جماعت کی طرف سے اس احتجاج میں معقول اور سنجیدہ مسلم پریس بھی شامل ہو گیا چنانچہ سپین اور اسلام کے نام سے روزنامہ آزاد ڈھا کہ نے ایک زور دار اداریہ میں لکھا :- سپین میں چونکہ حکومت کا مذہب (STATE RELIGION) صرف عیسائیت ہے اس لئے وہاں پر دوسرے مذاہب کی تبلیغ کی اجازت روک دی گئی ہے۔اس بناء پر سپین کی حکومت نے جماعت احمدیہ کے مبلغ کو جو وہاں پر تبلیغ اسلام کا کام کر رہا تھا نکل جانے کا حکم دیا ہے۔حکومت سپین کے اسی حکم کے خلاف جماعت احمد یہ صدائے احتجاج بلند کر رہی ہے۔اس کی طرف سے کثرت سے احتجاجی خطوط بھجوائے جارہے ہیں۔ان میں سے ایک احتجاجی خط کراچی میں غیر ملکی سفارت خانوں کو بھی یادداشت کے طور پر دیا گیا ہے۔احمد یہ جماعت کی بے چینی بالکل طبعی امر ہے یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے جس کا جماعت احمدیہ کے