سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 207 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 207

203 کیونکر علم ہو گا کہ امام مسجد میں نماز کے لئے آ گیا ہے اس وقت ان کو جو تمیں تمہیں سال سے عادت پڑی ہوئی ہوگی وہ کیسے دور ہوگی اور وہ کیسے باجماعت نماز ادا کریں گے۔اگر اس وقت انہوں نے اپنی حالت کی اصلاح نہ کی تو پہلے ان کی جماعت کی پہلی رکعت جاتی رہے گی، پھر دوسری رکعت جاتی رہے گی پھر تیسری رکعت جاتی رہے گی اور آہستہ آہستہ وہ باجماعت نماز ادا کرنے سے ہی محروم ہو جائیں گے اور خیال کرلیں گے کہ چلو گھر پر ہی نماز پڑھ لیں اور بعد میں ممکن ہے وہ گھر پر بھی نماز پڑھنا چھوڑ دیں۔میں ان کو اس حدیث کے مطابق کہ کسی کا نقص لوگوں کے سامنے بیان نہیں کرنا چاہئے اشاروں میں توجہ دلا چکا ہوں لیکن جب ان پر میرے اشاروں کا کوئی اثر نہیں ہوا تو میں نے ضروری سمجھا کہ اب زیادہ وضاحت سے کام لیکر ان کو توجہ دلاؤں تا کہ وہ اپنی غفلت کی عادت کو ترک کر دیں اس بیان کے آخر میں ایک لطیف نکتہ معرفت بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:- جو لوگ گھروں میں نماز پڑھنے کے عادی ہوتے ہیں وہ آہستہ آہستہ نماز پڑھنا بالکل چھوڑ دیتے ہیں“ (الفضل ۲۰ مئی ۱۹۳۹ء صفحه ۳) محترم ملک صلاح الدین صاحب حضور کی سیرت کے اس درخشاں پہلو کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- حضور نا جائز بختی کسی پر کرتے نہ نا جائز لحاظ۔باوجود یکہ حضور کے بعض اساتذہ ، بعض اقارب اور بعض ہم عصر یا دیرینہ ساتھی رفقاء کار تھے لیکن سب کو ان امور کا شدید احساس تھا۔اگر حضور کسی سے گرفت کرتے تو وہ یہی اظہار کرتے کہ ہماری غلطی تھی اور واقعی غلطی بھی ہوتی یا کسی قسم کی غلط فہمی بھی ہوتی ، قادیان کے ایک درویش جو اہم جماعتی عہدوں پر خدمات بجالانے کی وجہ سے جماعت میں مشہور تھے اور حضور کے بہت قریب سمجھے جاتے تھے قادیان سے آئے تو حضور نے ناراضگی کا اظہار فرماتے ہوئے ان سے ملنے سے انکار کر دیا۔انہیں اس کے متعلق بالکل کوئی خبر نہ تھی تا ہم حضور کو خود ہی یہ معلوم ہو گیا کہ اس معاملہ میں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے اور ان کا کوئی قصور نہ تھا۔حضور نے یکے بعد دیگرے کئی کارکنوں سے اس بات کا اظہار فرمایا اور اس امر پر افسوس کرتے رہے کہ بلا وجہ ایک درویش اور