سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 201
197 جب احمدیت کے فائدہ اور اس کی ترقی کے لئے خلیفتہ اسیح یہ تحریک کر رہے ہیں تو میں اس ثواب میں شامل ہونے سے پیچھے نہیں رہنا چاہتی۔اسی طرح انہوں نے سنایا کہ ایک شخص کے دولڑ کے تھے وہ ان دونوں لڑکوں کو بھرتی کرانے کے لئے لے آیا۔ہم نے اسے کہا کہ ایک کو بھرتی کرا دو اور ایک کو رہنے دو۔مگر اس نے اصرار کیا کہ میں اس ثواب میں دونوں کو شریک کرنا چاہتا ہوں۔تو دیکھو ایک تو یہ لوگ ہیں جنہوں نے قربانی کے یہ نمونے پیش کئے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت میں یہ گروہ ایک خاصی تعداد میں ہے (الفضل ۲۴ جولائی ۱۹۴۲ء صفحہ ۷ ) قادیان کے ایک محنت کش میاں عزیز احمد صاحب مخالفوں کی اشتعال انگیزیوں سے جوش میں آ کر بعض گالیاں دینے والوں سے اُلجھ گئے اور ان میں سے ایک کا قتل ہو گیا۔عام مروجہ طریق پر وکلاء کی خدمات سے فائدہ اٹھایا جاتا تو اس مقدمہ میں بری ہونا مشکل امر نہ تھا مگر ہمارے پیارے امام نے جو اخلاق فاضلہ کے قیام کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے تھے انہیں نصیحت کی کہ اپنی جان بچانے کے لئے جھوٹ نہیں بولنا جو بات ہوئی ہے اس کو سچ سچ بیان کیا جائے چنانچہ میاں عزیز احمد صاحب مجرم ثابت ہونے پر ہائی کورٹ کے فیصلہ کے مطابق سزائے موت سے دوچار ہوئے۔حضور نے جماعتی تربیت کو مقدم کرتے ہوئے ان کا جنازہ نہ پڑھا۔عدالت کے بعض بے جاریمارکس پر جن میں قتل کی بالواسطہ ذمہ داری امام جماعت پر بھی ڈالی جاسکتی ہے جماعت کو بہت تکلیف ہوئی۔حضور نے اس موقع پر جماعت کو بڑے ہی پر دردانداز میں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :- اکثر کے خطوں سے معلوم ہوا ہے کہ وہ اس خبر کے پڑھنے کے بعد کھانا نہیں کھا سکے اور رات کو نیند بھی ان کو نہیں آتی اور بعض نے تو نہایت درد سے لکھا ہے کہ خدایا کیا غضب ہے کہ جس شخص نے ہمیں نرمی اور محبت اور راحت کی تعلیم دی اور جس نے ہمیں سختی اور ظلم اور فساد سے روکا اور جس نے ہماری طبیعتوں کی وحشت کو دور کر کے پیارا ور محبت کا ہمیں سبق دیا اور دشمنوں سے بھی حسنِ سلوک کی ہمیں ہدایت کی اور ہمارے شدید ترین غصہ کی حالت میں ہمارے جذبات کو ختی سے قابو میں رکھا۔اس کی نسبت آج کہا جارہا ہے کہ اس نے لوگوں کو قتل وغارت کی تعلیم دی اور فساد پر آمادہ کیا۔بعض کے خطوط تو ایسے دردناک ہیں کہ یوں