سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 188 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 188

184 خدا کے ہاتھ میں ہے۔افسروں کی اطاعت۔باقاعدہ رپورٹ کام کے اہم جزو ہیں جو اس میں غفلت کرتا ہے اس کا سب کام عبث جاتا ہے۔دعا، عبادت، دیانت ، امانت، محنت، تعاون با ہمی ضروری امور ہیں ان کے بغیر دین نہیں دین کا چھلکا انسان کے پاس ہوتا ہے اور چھلکا کوئی نفع نہیں دیتا۔“ الفضل ۲۴ - جنوری ۱۹۴۷ء صفحه ۴ ) اسی تعلق میں حضور کی ایک اور بیش قیمت نصیحت جو آپ نے مکرم چوہدری فتح محمد صاحب سیال ناظر دعوت وتبلیغ کی ایک درخواست کے جواب میں بیان فرمائی درج ذیل ہے :- میں بھی آپ سے متفق ہوں کہ ہماری خاموشی سے سلسلہ کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں نے ناجائز فائدہ اٹھایا ہے اور باوجود بار بار توجہ دلانے کے کہ ہم صرف اسلام کی خاطر خاموش ہیں انہوں نے نصیحت حاصل نہیں کی اور محض ذاتی بغض پر اسلام کے فوائد کو قربان کر دیا ہے۔اب یہ ذاتی عداوت ایسا رنگ اختیار کر رہی ہے کہ اس کا نقصان اسلام اور مسلمانوں کو پہنچنے کا خطرہ ہے اور وہ تحریک اتحاد جسے میں نے بصد کوشش جاری کیا تھا اس سے متاثر ہونے کے خطرہ میں ہے۔پس اسلام اور مسلمانوں کے فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے میں اس امر کی اجازت دیتا ہوں اور بادل نخواستہ دیتا ہوں کہ صاحبانِ جرائد اور مصنفین سلسلہ کو اجازت دی جائے کہ وہ ایسے اعتراضات کے جواب دے دیا کریں جن کا اسلام یا سلسلہ کے کاموں پر بداثر پڑنے کا اندیشہ ہو لیکن سخت الفاظ کے استعمال سے پر ہیز کیا کریں اور جہاں تک ممکن ہو سکے ذاتیات کی بحثوں میں نہ پڑا کریں کہ ان بحثوں میں پڑنے سے فساد کے بند ہو جانے کا احتمال بہت کمزور ہو جاتا الفضل ۲۴۔جولائی ۱۹۲۸ ء صفحہ ۲) حضور کی نصائح کا مقصد بلند اخلاق اور آئندہ نسلوں کی تربیت اور بہبودی ہے اسی مقصد کو نمایاں کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں :۔اول ہمیں یہ بتانا ہے کہ اخلاق کیا ہیں اور جب یہ بتا دیں تو یہ بتانا ہوگا کہ ان کے قواعد کیا ہیں اور یہ بھی بتا دیں تو موقع پر استعمال کرانا