سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 174 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 174

170 رہی ہے۔مقام حاصل ہوا اس کا اندازہ اس امر سے بخوبی ہوسکتا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے تمام انٹرمیڈیٹ کالجوں کے پرنسپل صاحبان نے متفقہ طور پر ۴۶۔۱۹۴۵ء کے لئے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو یونیورسٹی کی اکیڈیمک کونسل (ACADEMIC COUNCIL) کا ممبر منتخب کر لیا“ (الفضل ۸۔جنوری ۱۹۴۵ء صفحه ۲) اس طرح جب حضور کے ارشاد پر پنجاب یونیورسٹی کو درخواست دی گئی کہ ہمارے کالج کو ڈگری کالج کا درجہ دیا جائے تو یو نیورسٹی کی طرف سے ماہرین کا ایک کمیشن ۹۔جنوری ۱۹۴۶ء کو کالج کے معائنہ کے لئے آیا۔اس کمیشن نے کالج کی عمارت ، کالج کا سامان اور کھیل کے میدان اور پھر فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ دیکھ کر یہ تاثر لیا کہ یہاں ڈگری کالج نہیں بلکہ یو نیورسٹی کی بنیا درکھنے کی تیاری ہو الفضل ۱۵ جنوری ۱۹۴۶ ، صفحه ۱) ڈگری کلاسیں کھولنے کی ضرورت بیان کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔اس وقت اگر ہم یہ جماعتیں نہ کھولیں گے تو جماعت کے لڑکے ایک تو اعلیٰ تعلیم کے لئے پھر دوسرے کالجوں میں جانے کے لئے مجبور ہوں گے دوسرے بہت سے لڑکوں کو تعصب کی وجہ سے بہت سے کالج لیں گے ہی نہیں اس لئے ہمارے لڑکوں کی عمرمیں تباہ ہو جائیں گی۔تیسرے جو غرض کالج کے اجراء کی تھی کہ لامذہبیت کے اثر کا مقابلہ کیا جائے اور خالص اسلامی ماحول میں پلے ہوئے نو جوانوں کو باہر بھجوایا جائے وہ فوت ہو جائے گی۔پس ان حالات میں میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے کالج کی بی۔اے اور بی۔ایس۔سی کی جماعتیں کھول دی جائیں۔۔۔۔۔۔( دل کھول کر چندہ دینے کی اپیل کرنے کے بعد آخر میں فرمایا ) میں بِسْمِ اللَّهِ مَجْرِهَا وَمُرُسُهَا کہتے ہوئے اس کاغذی ناؤ کو تقدیر کے دریا میں پھینکتا ہوں اللہ تعالیٰ آسمان کے فرشتے اتارے جو اسے کامیابی کی منزل پر پہنچا دیں اور اپنے الہام سے مخلصوں کے دلوں میں قربانی اور ایثار کا مادہ پیدا کرے اور پھر ان کی قربانی کا ادھار نہ رکھے بلکہ بڑھ چڑھ کر اس کا بدلہ دے۔اللَّهُمَّ مِينَ الفضل ۱۹۔مارچ ۱۹۴۶ء صفحہ ۲ )