سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 71
71 گیا کہ حضرت خلیفہ اول وفات پاگئے ہیں اور حضرت مرزا محمود احمد صاحب خلیفہ ہو گئے ہیں حالانکہ اس وقت مجھے قطعاً اس بات کا علم نہ تھا۔اسی دن میں واپس پنڈی بھٹیاں کے قریب پہنچا تو مجھے ایک شخص ملا جس کو علم تھا کہ میں آٹھ دن سے باہر گیا ہوا تھا۔انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کو پتہ ہے میں نے کہا ہاں۔اس نے کہا کس بات کا ؟ میں نے کہا کہ حضرت خلیفہ اول کی وفات ہو گئی ہے اور حضرت مرزا محمود احمد صاحب خلیفہ مقرر ہو گئے ہیں۔انہوں نے پھر پوچھا کہ آپ کو کس نے بتایا۔سو میں نے عرض کیا کہ آج صبح کی نماز سے پہلے مجھے جاگتے ہوئے کشف ہوا اور یہ نظارہ گویا میری آنکھوں کے سامنے ہوا ہے۔واپس آکر میں نے بیعت کا خط لکھ دیا تب گھر گیا۔روایت از میاں محمد مراد۔پنڈی بھٹیاں حال حافظ آباد۔۱۶۔جنوری ۱۹۶۸ء) جب شیخ عبد القادر صاحب سابق سود اگر مل قادیان جا کر احمدیت میں داخل ہوئے اور جامعہ احمدیہ میں تعلیم پا نا شروع کی اس وقت کے بعد جب بھی خاکسار نے حضرت اقدس سے ملاقات کی تو حضور مجھے پوچھتے تھے کہ کیا شیخ عبدالقادر صاحب اپنے رشتہ داروں کو ملتے ہیں۔( روایت از میاں محمد مراد۔پنڈی بھٹیاں ۱۴۔جنوری ۱۹۶۸ء) لکھتے ہیں :- مکرم مولوی عبدالرحمان صاحب انور پر بھی آپ کا مقام اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھولا گیا وہ غالباً ۳۶ - ۱۹۳۷ء کی بات ہے خاکسار نے خواب میں دیکھا کہ خاکسار مسجد مبارک کی ان سیڑھیوں پر کھڑا ہے جو احمد یہ چوک میں اترتی ہیں۔دیکھا کہ حضور نیچے سے تشریف لاتے ہیں اور ان سیٹرھیوں پر چڑھنے کے لئے ادھر تشریف لا رہے ہیں۔میں نے دور سے حضور کی طرف دیکھا تو حضور کے چہرہ کے گرد ایک نور کا ہالہ ہے جس طرح کہ ہندو اپنے اوتاروں کی تصاویر کے گرد بناتے ہیں۔اس نظارہ کو دیکھ کر حضور کی بلندی مقام کا اندازہ کر کے طبیعت پر خاص اثر ہوا۔دل میں احترام تو پہلے بھی تھا لیکن اس نظارہ کے بعد اس میں گراں قدر اضافہ ہوا جس کی تصدیق حضور کے اعلان مصداق مصلح موعود ہونے پر ہوگئی۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ۔( ریکارڈفضل عمر فاؤنڈیشن )