سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 59
59 عبادات میں شغف وانہماک حضرت فضل عمر ابتدائی عمر سے ہی حدیث نبوی شَابٌ نَشَافِي عِبَادَةِ رَبِّهِ ( وه نوجوان جو خدا کی عبادت میں پروان چڑھا) کی مجسم تفسیر و تشریح تھے قرآن مجید میں تفکر و تدبر ، عبادت میں شغف وانهاک ، عقیدت و محبت رسول صلی المیہ و سلم کی خوشبو آپ کی ہر حرکت و عمل سے ظاہر ہوتی۔وہ لوگ جو آپ کو شروع سے جانتے تھے ان کی گواہی بھی یہی ہے۔مکرم حضرت شیخ غلام احمد صاحب واعظ نو مسلم کا بیان ہے۔مرزا محمود احمد صاحب کو با قاعدہ تہجد پڑھتے ہوئے دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ وہ بڑے لمبے لمبے سجدے کرتے ہیں“ مکرم شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی نے بھی آپ کو تہجد کی نماز میں لمبے لمبے سجدے اور خشوع و خضوع سے دعائیں کرتے ہوئے دیکھا تو ان کے دل میں ایک عجیب سوال پیدا ہوا۔مکرم شیخ صاحب بیان کرتے ہیں کہ : - آپ کے اس جوانی کے عالم میں جب کہ ہر طرح کی سہولت اپنے گھر میں حاصل ہے، زمینداری بھی ہے، اور ایک شاہانہ قسم کی زندگی بطور صاحبزادہ ، شہزادہ بسر کر رہے ہیں تو میرے دل میں سوال پیدا ہوا کہ آپ کو کس ضرورت نے مجبور کیا ہے کہ وہ تہجد میں آکر لمبی لمبی دعائیں کریں۔یہ بات میرے دل میں بار بار یہ سوال پیدا کرتی تھی لیکن حضرت ممدوح سے پوچھنے کی جرات نہ پاتے تھے، لیکن ایک دن انہوں نے جرات کر کے آپ سے جبکہ وہ حضرت خلیفہ اول کی صحبت سے اُٹھ کر اپنے گھر کو جا رہے تھے راستے میں اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ کر کے روک لیا اور اپنی طرف متوجہ کر لیا اور نہایت عاجزی سے حضرت میاں صاحب کی خدمت میں معافی مانگ کر پوچھا کہ وہ مقصد جس کے لئے آپ تہجد میں لمبی لمبی