سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 611
547 ہے اور اس کی توصیف میں اس وقت کے پاکستان آرمی کے کمانڈر انچیف جنرل گریسی کا ایک توصیفی خط بھی شائع ہوا ہے۔وو مؤلف سے کہیں کہیں سہو بھی ہوا ہے مثلاً عبدالمجید قرشی حال ایڈیٹر ” پاسبان ظاہر کیا گیا ہے حالانکہ پاسبان جموں ( حال سیالکوٹ ) کے ایڈیٹر پہلے سے منشی معراج الدین احمد ہیں۔اسی طرح ایک نہیں دو جگہ شیخ عبدالحمید ایڈووکیٹ آف جموں ( حال ایڈووکیٹ مظفر آباد ) کے نام کے ساتھ موجودہ صدر آزاد کشمیر حکومت لکھا گیا ہے حالانکہ آزاد حکومت کے صدر عبدالحمید خان ہیں نہ کہ شیخ عبدالحمید لیکن فاضل مؤلف نے دونوں کو ایک بنا ڈالا ہے۔بہر حال غلطیوں سے کتاب کی افادیت کم نہیں ہوتی۔(انصاف راولپنڈی ۲۱۔اپریل ۱۹۶۶ء بحواله الفضل ۳۰ را پریل ۱۹۴۴ء صفحه ۵) پاکستان کے ایک سابق سربراہ جن کے زمانے میں پاکستان نے کئی لحاظ سے بہت ترقی کی تھی حضور کی دفاع پاکستان کے متعلق دلچسپی اور معلومات سے بہت متاثر تھے۔محترم صاحبزادہ مرزا رفیق احمد صاحب بیان کرتے ہیں : ۱۹۶۲ء کا ذکر ہے مجھے گردہ کی شدید تکلیف ہوئی اور میرے بڑے بھائی ڈاکٹر صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب نے کہا کہ ربوہ میں گرمی بہت ہے آپ مری چلے جاؤ، کیونکہ گرمی کا اثر بھی گردے پر ہوتا ہے۔میں اس ڈاکٹری مشورے کے بعد مری چلا گیا۔ان دنوں سابق صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان مرحوم بھی مری آئے ہوئے تھے۔میں نے ان کو خط لکھا کہ میں ملنا چاہتا ہوں، میں نے اپنا تعارف بھی کروایا اور یہ بھی لکھا کہ یہ ملاقات جماعتی طور پر نہیں بلکہ میری ذاتی خواہش کے پیش نظر ہے۔چند دنوں کے بعد ان کا جواب آیا کہ آکر مل لیں۔ان کے دیئے ہوئے دن اور وقت پر میں پریذیڈنٹ ہاؤس پہنچا میری ان سے تقریباً سوا گھنٹہ ملاقات رہی ، میں نے اس دوران میں انہیں حضور کی تصنیف دیباچہ تفسیر القرآن“ پیش کی جسے انہوں نے بڑے احترام سے قبول کیا اور چند منٹ اسے پڑھا اور پھر کہنے لگے :