سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 610
546 مرقع ہے۔مرزا صاحب نے آڑے وقت میں جب کہ بہت سے مسلمان لیڈروں کی آنکھیں کانگرس کے خوشنما بہروپ سے چکا چوند ہوتی تھیں مسلمانانِ ہند کی صحیح رہنمائی اور ترجمانی کی اور ان کو ہندوؤں کی نیت اور عزائم سے بروقت آگاہ کیا۔اس کے بعد آپ نے تحریک آزادی کشمیر کی ۱۹۳۱ء سے قبل ہی داغ بیل ڈالدی۔اس کتاب کا مطالعہ سیاسیات کشمیر کے ہر طالب علم کے لئے انتہائی ضروری ہے۔اس کے مطالعہ سے بہت ہی دلچسپ اور اہم معلومات حاصل ہوتی ہیں۔مثال کے طور پر ۱۹۳۵ء میں جب چوہدری عباس کو مسلم کانفرنس کا صدر بنایا گیا اور ان کا فقید المثال دریائی جلوس نکالا گیا تو مجلس استقبالیہ کے صدر خواجہ غلام نبی گلکار حال انور تھے اور رضا کاروں کی ور دیاں قادیان سے بن کر آئی تھیں۔۱۹۳۲ء میں شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے گڑھی حبیب اللہ حال پاکستان میں مرزا صاحب موصوف سے ملاقات کرنی تھی تو شیخ صاحب موصوف کو یار لوگوں نے کار میں لٹا کر اور اوپر کپڑے ڈال کر ریاست کی حدود سے باہر سمگل کیا۔کتاب میں علامہ اقبال مرحوم ، شیر کشمیر شیخ محمد عبد الله، سردار گوہر رحمان عبدالمجید قریشی اور چوہدری غلام عباس وغیرہ زعماء کے بعض تاریخی اور علمی اہمیت کے خطوط بھی شامل ہیں۔بعض تاریخی فوٹو گراف بھی دیئے گئے ہیں۔غرضیکہ یہ کتاب کشمیر کی تحریک آزادی سے متعلق معلومات کا ایک بیش بہا خزینہ ہے اور ان معلومات کے بغیر کشمیر کی سیاسی تاریخ کا کوئی بھی طالب علم اپنے علم کو مکمل نہیں قرار دے سکتا۔قیام پاکستان کے فوراً بعد آزاد کشمیر حکومت کی ابتدائی تشکیل میں بھی مرزا صاحب کا ہاتھ تھا جس کی تصدیق پروفیسر محمد اسحاق قریشی کے ایک بیان سے ہوتی ہے جو اس کتاب میں چھپا ہے۔قریشی صاحب نے لکھا ہے کہ میں نے چوہدری حمید اللہ خان مرحوم سابق صدر مسلم کانفرنس کی معیت میں معاملات کشمیر کے بارے میں ۱۹۴۷ء میں مرحوم لیاقت علی خان سے ملاقاتیں کیں تو انہوں نے ہمیں مرزا صاحب سے ملنے کا مشورہ دیا۔فرقان بٹالین جس نے ۴۷ ۴۸ ء کی جنگِ آزادی میں جو نمایاں کارنامے سرانجام دیئے ان کا بھی ذکر