سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 609 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 609

545 تاثرات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- وو حضرت صاحب نے قریباً ایک گھنٹہ تک اس موضوع پر دلکش پیرایہ میں فاضلانہ اور پُر اثر انگریزی زبان میں ایڈریس کیا جس کو تمام ممبران نے بہت سراہا۔لیکچر ختم ہونے کے بعد کئی ایک ملکی اور غیر ملکی ممبران ہمبرات اور خاص الخاص مہمانوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ حضرت صاحب ولایت یا امریکہ کی کونسی یو نیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔جن ممبران نے حضور کو مدعو کرنے کی مخالفت کی تھی ان پر بھی اتنا اثر ہوا کہ وہ مجھ سے کہہ رہے تھے کہ حضور کو پھر بھی بلائیں۔آخر غیر ملکی مہمانوں نے حضرت صاحب سے پوچھ ہی لیا کہ جناب آپ کس یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔حضرت صاحب نے جواب دیا کہ میں قرآن کی یونیورسٹی سے پڑھا ہوں اور تمام علوم قرآن سے ہی حاصل کئے ہیں۔کسی کالج یا یونیورسٹی کا پڑھا ہوا نہیں ہوں“ (اقبال اور احمدیت صفحه ۵۰۵ از مکرم شیخ عبدالماجد اشاعت ۱۹۹۱ء) ہفت روزہ انصاف روالپنڈی نے تاریخ احمدیت جلد ششم ( جس میں کشمیر کی تحریک آزادی کے متعلق گراں قدر مستند مواد ہے) پر تبصرہ کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو ”مذہبی رہنما ہونے کے علاوہ عظیم سیاستدان قرار دیتے ہوئے لکھا:۔جماعت احمدیہ کے تیسرے سر براہ مرزا بشیر الدین محمود احمد جو پچھلے سال وفات پاگئے مذہبی رہنما ہونے کے علاوہ عظیم سیاستدان بھی تھے۔چنانچہ چوہدری غلام عباس خان سابق صدر جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے اپنی خود نوشتہ سوانح حیات کے ایک باب میں لکھا تھا کہ میں نے مذہب مولانا ابوالکلام آزاد سے سیکھا جن سے میرا سیاسی اختلاف ہے اور میں نے سیاست مرزا بشیر الدین محمود احمد سے سیکھی جن سے میرا مذہبی اختلاف ہے۔تاریخ احمدیت جلد ششم کے نام سے ظاہر ہے کہ یہ کتاب اس جماعت کی مذہبی سرگرمیوں کی تفصیل ہوگی لیکن اس کے اوراق الٹنے سے پتہ لگتا ہے کہ یہ مسلمانان غیر منقسم ہند اور پھر اسلامیانِ جموں و کشمیر کی تحریک آزادی کا بہترین۔