سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 603 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 603

539 کے ملنے والوں پر ہوتا ہے تنظیم کا ملکہ ان میں موجود ہے۔، وہ پچاس سال کی عمر میں کام کرنے کے لحاظ سے نوجوان معلوم ہوتے ہیں، وہ اردو زبان کے ایک الحکم جوبلی نمبر دسمبر ۱۹۳۹ ء صفحہ ۳۶) ۲ مارچ ۱۹۲۷ء بریڈ لا ہال لاہور میں حضور کی ”ہندو مسلم فسادات، ان کا علاج اور مسلمانوں کا آئندہ طریق عمل کے عنوان پر تقریر سے پہلے جناب میاں محمد شفیع صاحب بڑے سر پرست ہیں کے ہی۔ایس۔آئی نے یہ ریمارک دیئے: حضرات ! ہمارے محترم مرزا صاحب نے آج کی اپنی تقریر کے لئے ایک ایسا عنوان تجویز کیا ہے جس کے ساتھ قدرتاً موجودہ حالات میں ہر بہی خواہ ملک کو دلچسپی ہے، لیکن بد قسمتی سے بعض لیڈری کے مشتاق ملک کے کونہ کونہ میں پھر کر ہندو مسلم تعلقات کو خراب کر رہے ہیں، اور شہر بہ شہر پھر کر فرقہ وارانہ نزاع اور کشیدگیاں پیدا کرتے رہتے ہیں، پبلک پلیٹ فارم سے مذہبی تعصب کو جوش دلا رہے ہیں اور بجائے اس کے کہ ملک میں جو نزاعات پیدا ہیں ان کو روکا جائے انہیں بڑھا رہے ہیں۔اسی طرح بعض اخباروں والے اپنی اخبارات کی اشاعت بڑھانے کے لئے ملک کی ترقی کو روک رہے ہیں اور بجائے اس کے کہ فسادات کو فرو کریں انہیں بڑھا رہے ہیں اس وجہ سے فرقہ وارانہ نفرت پھیل رہی ہے جس کا نتیجہ گزشتہ ایک سال کے عرصہ میں یا اس سے زیادہ عرصہ میں آپ صاحبان کلکتہ، کوہاٹ ، سہارن پور، الہ آبا داور دیگر مقامات پر دیکھ اور سن چکے ہیں۔مگر اب وقت آیا ہے کہ ملک کے بچے بہی خواہ اور قوم کے سچے درد خواہ جنہیں احساس ہے کہ مادرِ ہند کے ہندو اور مسلمان دونوں فرزند دلبند ہیں اور ان دونوں کے اتفاق سے ہندوستان کی ترقی ہے وہ لوگوں کو سمجھائیں کہ فسادات نہ کریں۔میں سمجھتا ہوں وقت آ گیا ہے کہ ایسے خیر خواہ اور ہمدردلوگ اپنی آواز بلند کریں اور بتائیں کہ ہندوستان میں جولوگ قوموں کو لڑا رہے ہیں وہ ملک کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں۔چونکہ اس وقت ہندوستان میں اس قسم کی مشکلات ہیں ، اس لئے مرزا صاحب آج آپ کو ان سب کا صحیح حل بتائیں گے، جس سے امید ہے کہ ملک کے حالات درست ہو جائیں