سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 604
540 گے، اور یہ مشکلیں نہ رہیں گی۔اسی وجہ سے آج میں نے نہایت خوشی سے مرزا صاحب کی تقریر کے وقت صدارت کو قبول کیا ہے۔اب میں بڑی خوشی کے ساتھ مرزا صاحب سے استدعا کرتا ہوں کہ اپنے خیالات کا اظہار فرمائیں الفضل ۱۵ مارچ ۱۹۲۷ء صفحه ۵) بریڈ لا ہال میں حضرت خلیفۃالمسیح الثانی کی تقریر کے متعلق ایک معزز غیر احمدی رئیس کا اظہارِ رائے:- حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب جن کے انتظار میں آنکھیں بے تاب تھیں وقت مقررہ پر تشریف لائے اور چشم مہجور کو مسرور فرمانے لگے۔ایک نہایت قابلِ قدر اور برجستہ تقریر موجودہ واقعات پر کی جس کی دشمن بھی داد دینے لگے۔دل میں اسلامی در د ر کھنے والے حضرت نے اس خوش اسلوبی سے تقریر کی کہ سامعین پر وجد طاری ہو گیا۔مسٹر جے دیو بیرسٹر نے بے ساختہ کہا مجھ پر اس تقریر کا جتنا اثر ہوا ہے کبھی کسی تقریر کا نہیں ہوا۔رائے صاحب نند رام اکثر تعریف کرتے تھے کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نہایت اچھے بولنے والے ہیں اور ان کی تقریر کا ہر ایک شخص پر اثر ہوتا ہے سو وہ بچشم خود دیکھا۔اب میں ان حضرات کی خدمت میں مؤدبانہ التماس کرتا ہوں جو مرزا صاحب کے متعلق غلط فہمی میں مبتلاء ہیں کہ اصل حقیقت معلوم کرنے کا طریق صرف یہی ہے کہ مرزا صاحب کی تصانیف کا مطالعہ کریں (الفضل ۲۵ / مارچ ۱۹۲۷ء صفحه ۷ ) ۳۔مارچ ۱۹۲۷ء کو حبیبیہ ہال لاہور میں حضور نے ”مذہب اور سائنس“ کے عنوان پر تقریر فرمائی جو کہ علامہ سر محمد اقبال کی صدارت میں ہوئی۔اجلاس کے آخر پر علامہ موصوف نے جو تقریر کی اس میں سے ایک اقتباس درج ذیل ہے:۔ایسی پر از معلومات تقریر بہت عرصہ کے بعد لاہور میں سننے میں آئی ہے اور خاص کر جو قرآن شریف کی آیات سے مرزا صاحب نے استنباط کیا ہے وہ تو نہایت عمدہ ہے۔میں اپنی تقریر کو زیادہ دیر تک جاری نہیں رکھ سکتا تا مجھے اس تقریر سے جو لذت حاصل ہو رہی ہے وہ زائل نہ ہو جائے اس لئے میں اپنی تقریرختم کرتا ہوں“ الفضل ۱۵ / مارچ ۱۹۲۷ء صفحه ۹)