سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 601 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 601

537 جماعت ہے اور ہمارے امام دین کا درد رکھنے والی ایسی غیر معمولی شخصیت تھی جس نے زبانی کلامی ہی نہیں بلکہ عملی طور پر مسلمانوں کی شاندار خدمات سرانجام دیں۔ذیل میں بعض اہل الرا۔ہل الرائے حضرات کے تاثرات پیش ہیں : مولوی محمد علی صاحب جو غیر مبائعین کی انجمن کے پریذیڈنٹ ہیں وہ ریویو جلد ۵ نمبر۳ رسالہ تشحیذ الاذہان پر ریویو کرتے ہوئے لکھتے ہیں ہے۔اس رسالہ کے ایڈیٹر مرزا بشیر الدین محمود احمد حضرت اقدس کے صاحبزادہ ہیں اور پہلے نمبر میں چودہ صفحوں کا ایک انٹروڈکشن ان کی قلم سے لکھا ہوا جماعت تو اس مضمون کو پڑھے گی مگر میں اس مضمون کو مخالفین سلسلہ کے سامنے بطور ایک بین دلیل کے پیش کرتا ہوں جو اس سلسلہ کی صداقت پر گواہ ہے۔۔۔اس مضمون کا خلاصہ بیان کرنے کے بعد مولوی صاحب لکھتے ہیں :- اس وقت صاحبزادہ کی عمر اٹھارہ انیس سال کی ہے۔اور تمام دنیا جانتی ہے کہ اس عمر میں بچوں کا شوق اور امنگیں کیا ہوتی ہیں۔زیادہ سے زیادہ اگر وہ کالجوں میں پڑھتے ہیں تو اعلیٰ تعلیم کا شوق اور آزادی کا خیال ان کے دلوں میں ہو گا۔مگر دین کی یہ ہمدردی اور اسلام کی حمایت کا یہ جوش جو اوپر کے بے تکلف الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے، ایک خارق عادت بات ہے۔صرف اسی موقع پر نہیں بلکہ میں نے دیکھا ہے کہ ہر موقع پر یہ دلی جوش ان کا ظاہر ہو جاتا ہے۔اب وہ سیاہ دل لوگ جو حضرت مرزا صاحب کو مفتری کہتے ہیں اس بات کا جواب دیں کہ اگر یہ افتراء ہے تو یہ سچا جوش اس بچہ کے دل میں کہاں سے آیا۔جھوٹ تو ایک گند ہے پس اس کا اثر تو چاہئے تھا کہ گندہ ہوتا نہ یہ کہ ایسا پاک اور نورانی جس کی نظیر ہی نہیں ملتی۔اگر ایک انسان افتراء کرتا ہے تو اگر چہ وہ باہر کے لوگوں سے اس افتراء کو چھپا بھی لے مگر اپنے ہی بچوں سے جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتے ہیں چھپا نہیں سکتا۔وہ اس کی ہر ایک حرکت اور سکون کو دیکھتے ہیں، ہر ایک گفتگو کو سنتے ہیں ، ہر موقع پر اس کے خیالات کو ظاہر ہوتا ہوا دیکھتے ہیں“ ریویوآف ریلیجنز جلد ۵ نمبر ۳ صفحه ۱۱۷ تا ۱۱۹، الفضل ۱۳ جنوری ۱۹۳۵ء صفحه ۷ )