سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 600 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 600

536 بعض اوقات اس سے دیر کر کے سونا پڑا۔اس قسم کی متواتر بے خوابیوں اور محنت کا اثر آپ کے چہرہ پر نمایاں ہے۔میں کہوں گا کہ صحت کے لحاظ سے شملہ کے سفر نے حضرت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا ہاں سلسلہ کی عظمت اور شوکت کا سکہ بیٹھ گیا اور یہ حضرت خلیفہ المسیح کی ذاتی قربانی کا نتیجہ ہے (الفضل ۷۔اکتوبر ۱۹۲۷ء صفحہ۵) ایک ملاقات کا کسی قدر تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے حضرت عرفانی صاحب لکھتے ہیں :- ” سروجنی نائیڈو ہندوستان کی مشہور سیاسی رہنما عورت ہے۔جس نے اپنی زندگی کو اہل ملک کی سیاسی خدمت کے لئے وقف کر رکھا ہے ہندوستان کی مشہور سیاسی مجلس کانگرس کی صدارت بھی کر چکی ہیں۔حضرت خلیفہ المسیح نے انہیں دعوت پنج پر مدعو کیا اور وہ نہایت اخلاص وارادت سے تشریف لا ئیں۔۔۔۔۔میز پر ہندو مسلمان اتحاد کے لئے اپنے جذبات اور خیالات کا اظہار کرتی رہیں۔سروجنی دیوی بنگالی نژاد اور ایک فصیح البیان خاتون ہیں۔اس تقریب دعوت پر وہ ملکی حالات کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کرتی رہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک موقع پر مسٹر جناح نے نہایت ہی محبت سے اعتراف کے طور پر کہا کہ کام کرنا تو حضرت خلیفہ المسیح کی جماعت جانتی ہے جو نہایت مستعدی سے کسی موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔اسی سلسلہ میں وہ جماعت کے نظام اور اس کی عملی قوت کے متعلق اپنے خیالات کا اور دوسرے لیڈروں کے خیالات کا اظہار کرتی رہیں الفضل ۷۔اکتوبر ۱۹۲۷ء صفحہ۵ ) اسی سفر میں دیوان عبد الحمید صاحب پرائم منسٹر کپورتھلہ ، نواب صاحب مالیر کوٹلہ ، آنریبل سردار جو گندر سنگھ وزیر زراعت اور اسی طرح اور بہت سے معززین سے ملاقات فرمائی۔مصلح موعود کی ملی خدمات آپ کے جوش وجذبہ کے متعلق مسلم ، غیر مسلم اہل الرائے حضرات کے تعریفی بیانات پہلی جلدوں میں اپنے اپنے مقام پر بیان ہو چکے ہیں۔جن سے معلوم ہوتا ہے کہ علمی حلقوں میں حضور کی غیر معمولی خدمات کا اعتراف کیا جاتا تھا اور یہ بھی کہ ان خدمات اور ان کے نمایاں اثرات کی وجہ سے جماعت کے خلاف نفرت و حقارت کی سوچی سمجھی تحریک ایک مخصوص طبقہ سے ہی تعلق رکھتی ہے۔جہاں تک حقیقت کا تعلق ہے وہ تو یہی ہے کہ یہ جماعت دین حق کی خادم