سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 576
518 اوپر سے آسمان آنسو بہا رہا تھا اور نیچے سے خدا کے مامور کا خلیفہ اور اس پر ایمان لانے والوں کا ایک گروہ۔عجیب سماں تھا غیر مسلم بھی محو حیرت تھے۔نماز کے بعد یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ ایسا نظارہ تو انہوں نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔آپ کے ایک قریبی ساتھی اور دوست بیان کرتے ہیں کہ :۔غغض بصر کی آپ کو یوں بھی بڑی شدت سے عادت ہے۔میں نے آپ کی آنکھیں کبھی پوری کھلی ہوئی نہیں دیکھیں ہمیشہ نیم بند رہتی ہیں اور نگاہ نیچی رہتی ہے اور ادھر اُدھر نہیں دیکھتے اور اس کے ساتھ چہرے پر حیا اور حسن نمایاں ہوتا ہے گویا ایک کنواری والی کیفیت ہوتی ہے لیکن نمازوں میں آنکھیں اور بھی کم کھلی رہتی ہیں اور سجدہ گاہ کی طرف نگاہ رہتی ہے او پر یا ادھر اُدھر کبھی نہیں ہوتی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی فوٹو دیکھ کر مجھے ہمیشہ حضور علیہ السلام کا فقرہ یاد آ جاتا ہے جو آپ کی کتاب علامات المقربین میں ہے کہ۔تَحْسَبُهُمْ أَيْقَاظًا وَهُمْ رُقُودٌ فِي مَهْدِ الْوِصَالِ۔یعنی تو اُن کو جاگتے ہوئے سمجھتا ہے حالانکہ وہ وصال کے بستر میں سوئے ہوئے ہیں۔بعینہ یہی نقشہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تھا اور یہی نقشہ بہت حد تک مصلح موعود کا ہے۔۱۹۲۶ء میں یہ عاجز ایک ابتلاء میں سے گزرا گورداسپور سے قادیان حاضر ہو کر آپ کی خدمت میں تفصیل عرض کی۔شام کا وقت تھا اگلے روز صبح آپ کا اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک لمبا خط ملا جس میں یہ بھی تحریر تھا کہ آپ نے ساری رات کمر چار پائی کے ساتھ نہیں لگائی اور اس عاجز کے لئے دُعا فرماتے رہے یہانتک کہ صبح سے کچھ پہلے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ“ جس کی تعبیر آپ نے یہ فرمائی کہ اللہ تعالیٰ سلامتی کی صورت پیدا فرمائے گا۔چنانچہ چند دنوں کے اندر ایسا ہی ہوا اور یہ عاجز سائیکل پر واپس گورداسپور جا رہا تھا ( ان دنوں ابھی بٹالہ سے قادیان کی ریل جاری نہ ہوئی تھی ) کہ راستہ میں سٹھیالی کے پاس یوں محسوس ہوا کہ ایک ہاتھ آسمان سے آیا ہے اور میرے اندر داخل ہو کر میرا سارا گند باہر نکال کر پھینک دیا ہے۔اس