سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 575
517 بطور پرائیویٹ سیکرٹری ہمراہ گئے تھے میرے پاس باز پرس کے لئے بھیجا کہ آپ بغیر لائسنس کے مچھلی پکڑ رہے ہیں۔میں نے کہا حضور کا لائسنس جو ہے اور مچھلی بھی میں حضور کے لئے پکڑ رہا ہوں۔تو انہوں نے کہا کہ حضور کے لائسنس پر آپ کو تو مچھلی پکڑنے کا حق نہیں ہے۔پھر ذرا وقفہ سے کہا کہ آپ تو یونہی کہتے ہیں کہ آپ کا لائسنس نہیں ہے ذرا جیب میں تو دیکھیں۔میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور میں حیران ہوا کہ جیب سے میرے نام کا لائسنس نکل آیا۔اس وقت میں سمجھ گیا کہ میرے اس طرح شکار کرنے کو حضور نے قانون کے خلاف جانا اور مخفی طور پر اسی وقت میرے نام کا لائسنس خرید کر لطیفہ سنجی کے لئے چپکے سے میرے کوٹ کی جیب میں ڈلوا دیا اور مجھ سے جواب طلبی شروع کر دی۔غرض بڑے لطیف رنگ میں حضور نے مجھے قانون کی خلاف ورزی پر تنبیہ فرما دی اور میرے احساسات کا بھی پورا احساس رکھا۔“ مکرم مرزا عبدالحق صاحب جو پہلے گورداسپور اور اب سرگودہا میں قیام پذیر ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک لمبا عرصہ کم و بیش پون صدی پر ممتد ہے سلسلہ کی اہم خدمات کی توفیق پا رہے ہیں۔انہیں حضور کے قابلِ اعتما در فیق کار کا شرف حاصل تھا وہ جلسہ لدھیانہ کا ایمان افروز واقعہ بیان کرتے ہیں۔۱۹۴۴ء میں مصلح موعود کے اعلان کے لئے آپ نے مختلف مقامات پر جلسے کروائے۔ان میں سے ایک جلسہ لدھیانہ میں بھی کیا گیا۔وہاں احرار کا زور تھا انہوں نے ہمارے جلسہ کا مقاطعہ کر دیا ، جلوس نکالے اور ہمیں خوب گالیاں دیں۔باوجود اس کے کئی ایک غیر مسلم ہمارے جلسہ میں شریک ہوئے۔ظہر اور عصر کی نمازیں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے جلسہ گاہ میں جمع کروا ئیں۔نماز شروع ہوتے ہی بارش بھی شروع ہوگئی۔اتنی بارش کہ سب پانی ہی پانی ہو گیا، پانی میں ہی ہم سجدے کر رہے تھے، سفر میں قصر ہونے کی وجہ سے آپ نے دو فرض ظہر کے اور دو عصر کے پڑھائے ، ان چاروں فرضوں میں شاید پون گھنٹہ لگا ہوگا، رقت کی وجہ سے سب طرف سے چیخوں کی آواز آ رہی تھی۔آپ اس بات سے قطعی بے نیاز معلوم ہوتے تھے کہ بارش سے ہمارا کیا حال ہو رہا ہے