سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 566
508 میں ٹہل رہے تھے ہمیں دیکھتے ہی حضور نے محترم مولوی صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ابھی رپورٹ ملی ہے کہ بٹالہ میں اپنے دوستوں کو کھانے کی تکلیف ہے۔ہم نے حضور کے اس ارشاد کو اچھی طرح نہ سمجھتے ہوئے عرض کیا کہ حضور صبح ہوتے ہی اسکا انتظام کر دیا جائے گا۔اس پر آپ نے فرمایا کہ پھر مجھے تمام رات جاگنا پڑے گا ان الفاظ کو سنتے ہی ہمیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور عرض کیا کہ حضور ا بھی انتظام کرتے ہیں رات کے دس بجے کے قریب وقت ہوگا وہاں سے اتر کر دفتر کی ایک جیپ کا انتظام کیا اور اسی وقت لنگر خانہ میں جا کر باورچی کو جگایا، کھچڑی کا سامان ایک دیگ ایندھن اور دوسری ضروری اشیاء لے کر جیپ میں ڈالیں اور ہم جلدی ہی بٹالہ کی سڑک پر رواں دواں تھے۔گیارہ بارہ میل کا یہ راستہ جلد ہی طے ہو گیا بٹالہ پہنچ کر باورچی نے اُسی وقت زمین میں چولہا بنا کر دیگ پکانے کا انتظام کر لیا۔احباب کو جب حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے اس اضطراب کا علم ہوا تو ان کی عجیب ہی کیفیت تھی۔وہ ایک طرف دوڑ بھاگ کر کھچڑی پکانے میں ہر ممکن مدد کر رہے تھے اور دوسری طرف وہ زیر لب اپنے امام واجب الاحترام کے لئے دعا مانگ رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے کیسا ہمدرد جانگسار اور خیر خواہ خلیفہ عطا فرمایا ہے۔محترم مولانا عبدالرحمن صاحب نے اسی وقت جیپ کار کو قادیان واپس کیا اور حضور کی خدمت میں اطلاع بھجوائی کہ احباب کے لئے چاول تیار کر دیئے گئے ہیں۔دوسرے دن پتہ لگا کہ حضور رات کو ہماری رپورٹ کا ہی انتظار فرما رہے تھے اور اس رپورٹ کے بعد ہی آپ نے کھانا کھایا نیز ہمارے اس کام پر خوشنودی کا اظہار بھی فرمایا۔غرباء کے ساتھ آپ کی ہمدردی اور شفقت بے نظیر تھی۔قادیان اور پھر ربوہ میں قابل امداد افراد کی فہرستیں بنائی گئیں۔خاص طور پر عیدین اور رمضان شریف میں ان مستحقین کی آپ بہت خبر گیری فرماتے تھے۔یہ بات بھی آپ کے فضائل میں سے ہے کہ قربانی کی عید پر محلہ وار گوشت جمع کر کے غرباء میں تقسیم کیا جاتا اور اس بات کی نگرانی کی جاتی کہ عید کے دن کوئی گھر گوشت کے