سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 46
46 متبرک مقصد کے لئے جیل خانے کے باہر متحد اور مجتمع نہیں ہو سکتے۔برادرانِ اسلام ! اس وقت اسلام کو اتحاد اور متحدہ کوشش کی سب سے زیادہ ضرورت ہے الفضل ۲۸ - جون ۱۹۲۷ء صفحہ ۲۱) عام طور پر ایسے مواقع پر متعلقہ کتاب یا مضمون کی ضبطی اور مصنف کو سزا دیئے جانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔حضرت فضل عمر نے بڑی تفصیل سے مدلل طریق پر ان مطالبات کے نا کافی ہونے کے متعلق اپنے مضامین اور تقاریر میں بیان فرمایا آپ کے نزدیک کتاب کی ضبطی مسئلہ کا کسی طرح بھی حل نہیں ہوتا کیونکہ کتاب پڑھی جا چکی ہوتی ہے اور اس کا مضمون و مفہوم عام ہو چکا ہوتا ہے۔ضبطی کی وجہ سے ایسی کتاب کی شہرت پہلے سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے جس کا فائدہ مصنف کو تو ضرور پہنچتا ہے مگر احتجاج کرنے والوں کو مزید نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔حضرت فضل عمر اس سلسلہ کی مشکلات کو خوب سمجھتے تھے آپ فرماتے ہیں :- ایسی حالت میں مسلمانوں کے لئے کس قدر مشکلات ہیں قانون ہمارے اختیار میں نہیں کہ اس کے ذریعہ جوش نکال سکیں اور خاموش اس لئے نہیں رہ سکتے کہ آئندہ نسلیں تباہ نہ ہو جائیں اور ان میں بے غیرتی نہ پیدا ہو جائے“ الفضل ۵۔جولائی ۱۹۲۷ ء صفحہ ۶ ) حضور نے صحیح لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے پر زور احتجاج پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ نہایت متوازن اور مدلل انداز میں کتاب کا جواب دیا تا کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ کتاب میں بیان کئے گئے الزامات درست ہیں۔بعض لوگوں نے مصنف کو قتل کرنے کی کوشش کی جسے آپ نے اسلامی تعلیم کے خلاف سمجھتے ہوئے پسند نہ فرمایا تو ہین کا ارتکاب کرنے والوں کو عدالت سے سزا ہونے پر بعض لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا۔مگر آپ نے فرمایا کہ:- میرا دل غمگین ہے کیونکہ میں اپنے آقا ، اپنے سردار حضرت محمد مصطفی صلی الشمایہ آلہ سلم کی ہتک عزت کی قیمت ایک سال کے جیل خانہ کو نہیں قرار دیتا، میں اُن لوگوں کی طرح جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صل العمار المسلم کو گالیاں دینے والے کی سزا قتل ہے ایک آدمی کی جان کو بھی اس کی قیمت قرار نہیں دیتا ایک قوم کی نتا ہی کو بھی اس کی قیمت قرار نہیں دیتا میں ایک دنیا کی موت کو بھی اس کی قیمت