سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 553
495 چالیس سال تک مضامین اور کتب لکھتا رہا۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ۔حضور میرے مضامین پڑھ کر حوصلہ افزائی فرماتے اور متعدد مرتبہ خطبات و تقاریر میں ذکر بھی فرماتے رہے۔اکثر دفعہ دریافت فرماتے کہ کیا دوسرے مسلمان ان مضامین کے متعلق کوئی ریویو کرتے ہیں۔عرض کی اکثر خطوط تعریفی آتے رہتے ہیں اور غیر احمدی ایڈیٹر اپنے جرائد میں میرے مضامین شائع کرتے رہتے ہیں۔خواجہ حسن نظامی مرحوم دہلوی نے بھی ایک دفعہ ریویو کیا تھا اور صدق جدید والے۔بزرگ۔دریا آبادی تو مضامین شائع بھی کرتے رہے۔مجالس ، خطبات جمعہ اور جلسہ سالانہ کی تقاریر میں حضور میرے مضامین کا اکثر ذکر فرماتے اور نوجوان طبقہ کو تحریک کرتے کہ اس طریق کی نقل میں دوسرے دوست بھی لکھا کریں۔روح انسانی کی حقیقت اور دوزخ میں ارواح کے (سزا) علاج میں دقت کی تفاوت کے متعلق حضور نے نہایت شرح و بسط کے ساتھ فلسفیانہ معلومات عاجز کو دیں۔جس میں آنحضرت صلی للہا یہ آلہ وسلم کے دماغی ارتقاء اور روحانی ترقی کا کامل مرکزی نقطہ ہونے کے متعلق عارفانہ کلام فرمایا۔جو ریویو اردو میں شائع ہوا مگر افسوس مخالفین نے اپنی عادت سے مجبور ہو کر اس میں تحریف کر کے خوب پراپیگنڈا کیا اور کئی سال تک مخالف علماء اس گند کو اُچھالتے رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مرض مراق اور انبیاء کو برنگ مجنون کہنے کی لطیف وجہ بھی حضور نے بیان فرمائی۔جو حضور کے لیکچر ”مذہب اور سائنس“ میں عاجز نے شائع کرا دی۔۱۹۴۶ء میں جب عاجز جاپان میں فوج کے ساتھ مقیم تھا کہ حضور نے ایک رؤیا بیان فرمایا۔جس میں کسی آنے والے عظیم فتنہ کی طرف اشارہ تھا اور اس میں دکھایا گیا تھا کہ سیالکوٹ کی جماعت وفادار رہی ہے اور اس کے جرنیل حضرت چوہدری مولا بخش ہیں۔یہ عاجز کے والد مرحوم ہیں۔حضور نے نئی پود سے ان کو متعارف کروانے کے لئے فرمایا ”چوہدری مولا بخش بھٹی میجر ڈاکٹر //////