سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 552
494 -1 -۲ تمہارے والا حصہ تو جوں کا توں پڑا ہے۔عاجز ۱۹۲۳ء دسمبر تک یعنی M۔B۔B۔S کا امتحان پاس کرنے تک احمد یہ ہوٹل میں رہا۔وہاں ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب کی بھی زیارت ہوتی رہی جو ان دنوں حضرت کی زیر ہدایت لیبارٹری کا خاص کورس کرنے آئے تھے۔اپریل ۱۹۲۴ء میں عاجز کو پلیگ ڈیوٹی پر متعین کیا گیا (ان دنوں پنجاب میں بہت زور تھا) حضور کی خدمت میں ہدایات کے لئے حاضر ہوا۔حضور نے گول کمرہ میں طلب فرمایا اور مفصل ہدایات طبی پیشہ اور پریکٹس اور خاص کر مطالعہ اور ریسرچ کے متعلق دیں جو الفضل بابت اپریل ۱۹۲۴ء میں شائع شدہ ہیں۔ان میں خصوصی ہدایت یہ تھی کہ سادہ نسخے لکھو جوستے بھی ہوں ، ملکی ادویہ جڑی بوٹیوں پر ( INDIGINOUS ) ریسرچ کرو۔مطالعہ کے متعلق بھی اہم ہدایات تھیں جن کی برکت سے عاجز اس قابل ہوا کہ ۴۰ سال تک فلسفہ احکامِ اسلام پر علوم جدیدہ کی روشنی میں غور وفکر کر کے سلسلہ کے جرائد میں مضامین شائع کروا تا رہا۔مطالعہ کے متعلق راہنمائی کرتے ہوئے حضور نے فرمایا :- مغربی علوم کے مطالعہ کے وقت تین باتوں کا خیال رکھو۔اگر اسلام کے کسی حکم کی تائید ہوتی ہو تو اس کو نوٹ کر کے مزید غور کرو۔اگر کسی حکم پر اعتراض پڑتا ہو تو اس کا حل سوچو۔ا لغویات کو نظر انداز کر دو۔مغربی علوم کی کتب میں یہ تینوں باتیں تم پاؤ گے۔“ ( حضور مغربی فلسفہ اور کتب سے ہرگز مرعوب نہ ہوتے اور آپ کو پتہ تھا کہ ان میں لغو باتیں بھی ہوتی ہیں ) مسجد مبارک قادیان میں اکثر دفعہ فلسفه احکام اسلام پر تبادلہ خیالات ہوتا اور حضور سے عاجز احکام کی حکمت اور وجہ دریافت کرتا رہتا۔ایک دن فرمایا تم ڈاکٹر ہو خود سوچا کرو۔اس دن سے عاجز نے سوال کرنا بند کر دیا اور خود غور وفکر کے بعد مسائل کی حکمت معلوم کرتا رہا اور اُس نورانی برکت سے