سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 551 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 551

493 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت پیدائشی احمدی ہونے کی حالت میں اور ہوش کی حالت میں کی تھی جب میری عمر ۶۔۷ سال کی تھی میری والدہ مرحومہ کی روایت کے مطابق ( کہ جو خود بھی رفیقہ اور صاحب کشف والہام تھیں ) میرے سر پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیار بھی دیا تھا۔گویا میرے سر کو برکت عطا فرمائی تھی۔حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں قادیان جانے کا موقع ملا نہ ہی حضور کی زیارت ہو سکی۔۱۹۱۶ء میں جب میں گورنمنٹ کالج لاہور میں ایف۔ایس سی۔F۔Sc میڈیکل گروپ کا طالب علم تھا) والد محترم کی وفات ہوگئی اور میں یتیم رہ گیا اس زمانہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی پہلی زیارت لاہور اسٹیشن پر ہوئی جب حضور ۱۹۱۷ء میں شملہ کے سفر سے واپس آرہے تھے۔میرے ساتھ میرے دوست ڈاکٹر لال دین احمد کمپالہ ( یوگنڈا) تھے جو حضور سے زیادہ بے تکلف تھے۔سیکنڈ کلاس کے ڈبہ میں حضور تشریف فرما تھا۔وہیں حضور کے قدموں میں بیٹھ گیا اور رونا شروع کر دیا۔ڈاکٹر صاحب نے میرا تعارف کروایا حضور نے فوراً تسلی دی اور والد صاحب کی خدمات کی وجہ سے خاص توجہ خاندان کے افراد کو دی۔تفصیل سے دریافت فرمایا کہ تعلیم کا خرچ کون دے گا، کتنے بچے ہیں حضور نے عاجز کے لئے تعلیمی قرضہ حسنہ کی بھی سفارش فرما دی مگر اس کی ضرورت آخری دو سال میں پڑی کیونکہ مجھے امرتسر کی ایک انجمن سے تعلیمی وظیفہ مل رہا تھا۔۱۹۱۸ء میں عاجز میڈیکل کالج لاہور داخل ہو گیا اور پہلے سال مسلم ہوٹل میں رہا جو لاہوری جماعت نے لاہور کھول رکھا تھا۔مگر جلد ہی (۱۹۱۹ء میں) احمد یہ ہوسٹل میں داخل ہو گیا جہاں حضور اکثر تشریف لاتے تھے۔صحبت سے مستفید ہونے کا موقع ملتا رہا۔حضور ہمیشہ خاص شفقت فرماتے۔دریافت حالات کرتے رہے۔کئی دفعہ تعلیم کا حرج کر کے بھی قایان چلا جاتا اور ایک دفعہ سیالکوٹ لیکچر سنے بھی چلا گیا۔میرا ساتھی ایک ہندو تھا جو میرے ساتھ انسانی لاش کو چیرا کرتا تھا ہندو تھا اور شکوہ کرتا رہتا کہ تم کس طرح پاس ہو گے۔/////////